نیب اور بی او آر کی مشترکہ کاوش، 433 ارب کی قیمتی زمین قابضین سے واگزار

لاہور (سپیشل رپورٹر) پنجاب میں سرکاری اراضی کے تحفظ، بدعنوانی کے خاتمے اور ریاستی وسائل کی بازیابی کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں نیشنل اکاﺅنٹیبلٹی بیورو (نیب) اور بورڈ آف ریونیو پنجاب کی مشترکہ کاوشوں نے سرکاری زمینوں پر ناجائز قبضوں کے خلاف صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک کو کامیابی سے ہمکنار کر دیا ہے۔ نیب اور بورڈ آف ریونیو پنجاب نے سال 2025-26ءکے دوران نافذ کی جانے والی ادارہ جاتی اصلاحات، جدید ڈیجیٹل نظاموں اور لینڈ مافیا کے خلاف مربوط آپریشنز کے ذریعے زمینوں کے انتظامی امور میں شفافیت، احتساب اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تقریباً 433 ارب روپے مالیت کی 25 ہزار 444 کنال سرکاری اراضی ناجائز قابضین سے واگزار کروا کر ریاستی تحویل میں واپس لے لی۔ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ، ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور مرزا فاران بیگ اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب نبیل جاوید کی قیادت میں ستمبر 2025 میں شروع ہونے والی اس مہم کے دوران ریونیو ریکارڈ کی جامع جانچ پڑتال، حد بندی، فیلڈ انفورسمنٹ اور بورڈ آف ریونیو و نیب کے افسران بشمول ممبر کالونیز ملک عبدالوحید کی مشترکہ کوششوں سے پنجاب کے متعدد اضلاع میں زرعی و تجارتی اہمیت کی حامل وسیع سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی۔ اس غیر معمولی کامیابی کے اعتراف میں وزیراعظم پاکستان نے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کو تعریفی اسناد اور شیلڈز سے نوازا۔ ذرائع کے مطابق 433 ارب روپے مالیت کی سرکاری اراضی کی بازیابی نہ صرف عوامی اثاثوں کے تحفظ کی ایک بڑی مثال ہے بلکہ اس سے سرکاری اراضی پر ریاستی عملداری کے موثر نفاذ کیلئے ایک مضبوط انتظامی و قانونی فریم ورک بھی تشکیل پایا ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت پنجاب نے پنجاب اسٹیٹ ایسیٹس ٹاسک فورس قائم کی ہے جو بورڈ آف ریونیو کے اشتراک سے ناجائز قبضوں کے خاتمے، واگزار شدہ اراضی کے شفاف استعمال اور مکمل آڈٹ ایبل ریکارڈ کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے جبکہ ڈائریکٹر نیب لاہور محمد واصف بھٹی اس ٹاسک فورس میں نیب کے فوکل پرسن کی حیثیت سے اداروں کے مابین رابطہ کاری اور اہداف کے نفاذ کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسری جانب نبیل جاوید کی رہنمائی میں بورڈ آف ریونیو پنجاب نے شفافیت اور جدید طرز حکمرانی کے فروغ کیلئے نمایاں اصلاحات نافذ کیں جن کے تحت زرعی آمدن ٹیکس کی سو فیصد وصولی یقینی بناتے ہوئے تقریباً 10 ارب روپے جمع کئے گئے جبکہ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک سرکاری اراضی اور املاک کے لیز و فروخت سے 5 ارب 90 کروڑ 66 لاکھ روپے سے زائد وصول کیے گئے۔ پلس پراجیکٹ کے تحت 1947 سے 2024 تک کی 2 کروڑ 35 لاکھ رجسٹرڈ دستاویزات اور 30 کروڑ سے زائد صفحات کو ڈیجیٹلائز کیا گیا جبکہ 25 لاکھ سے زائد انتقالات کو جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے پراسیس کیا گیا۔ صوابدیدی اختیارات کے محدود استعمال اور شفافیت کے فروغ کیلئے جی آئی ایس پر مبنی گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ، جی آئی ایس سے منسلک ای اسٹیمپ پلیٹ فارم اور ڈیجیٹل ویلیوایشن ٹیبل متعارف کرائے گئے جبکہ 500 سے زائد ہاﺅسنگ سوسائٹیز میں مکمل ڈیجیٹل پراپرٹی ٹرانسفر سسٹم نافذ کیا گیا جس سے شفاف آڈٹ ٹریل کا موثر نظام قائم ہوا۔ شہری سہولت کیلئے ماس پارٹیشننگ کے ذریعے 6 لاکھ 71 ہزار 846 نئی اراضی یونٹس تشکیل دی گئیں جبکہ ڈیجیٹل گرداوری اور ہیڈ مین ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے فصلوں اور زمینی قبضوں کا موقع پر اندراج ممکن بنایا گیا۔ ادھر چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کی قیادت میں احتسابی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے کاروباری برادری کے ساتھ موثر روابط قائم کئے گئے، چیمبرز آف کامرس سے مشاورت کا سلسلہ شروع کیا گیا اور 2023 سے 2026 کے دوران 15.6 ٹریلین روپے کی ریکارڈ ریکوری حاصل کی گئی۔ صرف سال 2025 میں ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد متاثرین کے مقدمات نمٹا کر تقریباً 180 ارب روپے کی رقوم کی واپسی میں سہولت فراہم کی گئی جبکہ نیب لاہور نے 263.096 ارب روپے کی خطیر ریکوری کر کے 61 ہزار 700 دعویداروں میں رقوم تقسیم کیں۔ نیب لاہور اس وقت بھی 81 ہزار 90 متاثرین اور 124 ارب روپے کے مالی نقصان سے متعلق بڑے عوامی فراڈ مقدمات پر کام کر رہا ہے۔ احتسابی عمل میں شفافیت اور عوامی سہولت کیلئے اکاﺅنٹیبلٹی فسیلیٹیشن سیل، بزنس فسیلیٹیشن سیل اور پارلیمنٹرین فسیلیٹیشن سیل قائم کیے گئے ہیں جبکہ عوامی شکایات کے فوری ازالے کیلئے باقاعدہ کھلی کچہریوں کا انعقاد، ای کیس مینجمنٹ سسٹم، مقدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید تحقیقاتی نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے۔ نیب اور بورڈ آف ریونیو پنجاب نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری اراضی پر ناجائز قبضوں کی نشاندہی سرکاری شکایات پورٹل کے ذریعے کریں تاکہ مشترکہ ٹاسک فورس فوری کارروائی کرتے ہوئے قومی اثاثوں کے تحفظ، واگزاری اور شفاف استعمال کو یقینی بنا سکے، جبکہ دونوں اداروں نے پنجاب کے عوام کے مفاد میں سرکاری اراضی کے تحفظ، ریاستی وسائل کی بازیابی اور شفاف انتظامی نظام کے فروغ کیلئے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔