پنجاب، زمین کے لین دین کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ واحد قابل قبول دستاویز قرار

لاہور (میاں ذیشان) بورڈ آف ریونیو پنجاب نے یکم جولائی 2026 سے فرد کی جگہ گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور پراپرٹی رپورٹس کو زمین کے لین دین کیلئے واحد قابل قبول دستاویز قرار دیدیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے آغاز سے روائتی فرد کے اجراءپر صوبے کے بیشتر اضلاع پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ چند اضلاع کو فی الحال اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ اس اقدام کو زمینوں کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت اور جدید نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق بورڈ آف ریونیو پنجاب پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشن 41-A اور سیکشن 20 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے صوبے کے تمام اضلاع میں ریکارڈ آف رائٹس کی نقول یعنی فرد ملکیت کے اجراءکو یکم جولائی 2026 سے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ساہیوال، حافظ آباد اور لودھراں کو فی الحال اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ تاریخ کے بعد متعلقہ اضلاع میں جائیدادوں کی خرید و فروخت، انتقالات اور دیگر لین دین کے مقاصد کیلئے روایتی فرد جاری نہیں کی جائے گی اور زمینی ریکارڈ سے متعلق تمام ٹرانزیکشنز کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ اور پراپرٹی رپورٹس ہی واحد قانونی اور قابل قبول دستاویزات تصور ہوں گی۔ یہ دستاویزات پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی مینجمنٹ آف لینڈ ریکارڈز ریگولیشنز 2025 کے تحت جاری کی جائیں گی جنہیں پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی ایکٹ 2017 کے سیکشن 14، 15 اور 16 کے تحت قانونی حیثیت حاصل ہے۔ زمینی ریکارڈ اور جائیدادوں کے لین دین کے معاملات میں شفافیت، جعل سازی کی روک تھام، ریکارڈ کی جدید ڈیجیٹل تصدیق اور عوام کو تیز رفتار خدمات کی فراہمی کیلئے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ نظام کو مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔ بورڈ آف ریونیو نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز ریونیو، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ حکام کو اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ پنجاب اربن لینڈ سسٹم انہانسمنٹ پراجیکٹ لاہور کو بھی اس سلسلے میں ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق فرد کے روایتی نظام کے خاتمے اور ڈیجیٹل سرٹیفکیشن کے نفاذ سے زمینوں کے ریکارڈ کے نظام میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا جس سے نہ صرف ریکارڈ کی درستگی اور دستیابی بہتر ہوگی بلکہ جائیدادوں کے لین دین میں شفافیت اور قانونی تحفظ بھی مزید مضبوط ہوگا۔