لاہور (میاں ذیشان) لاہور ڈویژن میں ای رجسٹریشن کے نفاذ کو جائیدادوں کی خرید و فروخت میں شفافیت، جعلسازی کے خاتمے اور سرکاری محصولات میں اضافے کیلئے انقلابی اقدام قرار دیا گیا تھا تاہم عملی طور پر نظام کے نفاذ کے بعد شہریوں، وکلائ، پراپرٹی ڈیلرز اور رجسٹری برانچوں کو متعدد تکنیکی اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کو بائیومیٹرک تصدیق میں ناکامی، نادرا کے ریکارڈ سے مطابقت نہ ہونے، انٹرنیٹ اور سرور کی سست رفتاری، بجلی کی بندش، آن لائن ٹوکن کے حصول میں تاخیر، ای اسٹامپ کی تصدیق میں رکاوٹ، دستاویزات کی بار بار سکیننگ، سسٹم کے بار بار معطل ہونے اور رجسٹری کیلئے کئی گھنٹے انتظار جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ماضی میں مینوئل رجسٹری نسبتاً کم وقت میں مکمل ہو جاتی تھی، وہیں ای رجسٹریشن کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ایک رجسٹری مکمل ہونے کا اوسط دورانیہ 4 سے 6 دن تک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی خرابی یا سرور ڈاون ہونے کی صورت میں یہی عمل سات دن بلکہ بعض اوقات دس روز تک موخر ہو جاتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور ڈویژن میں ای رجسٹریشن سسٹم کے نفاذ کے بعد جائیدادوں کی خرید و فروخت کے عمل میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئی ہیں، تاہم اس نظام کی افادیت کے ساتھ ساتھ متعدد انتظامی اور تکنیکی خامیاں بھی نمایاں ہو رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ای رجسٹریشن کےآغاز کے بعد لاہور ڈویژن میں روزانہ اوسطاً تقریباً 1200 سے 1500 رجسٹریاں مکمل کی جا رہی ہیں جبکہ نفاذ کے بعد مجموعی طور پرایک لاکھ سے زائد رجسٹریاں ڈیجیٹل نظام کے تحت مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود شہریوں کو بائیومیٹرک تصدیق میں ناکامی، نادرا کے ریکارڈ سے مطابقت نہ ہونے، انٹرنیٹ اور سرور کی سست رفتاری، بجلی کی بندش،آن لائن ٹوکن کے حصول میں تاخیر، ای اسٹامپ کی تصدیق میں رکاوٹ، دستاویزات کی بار بار اسکیننگ، سسٹم کے بار بار معطل ہونے اور رجسٹری کیلئے کئی گھنٹے انتظار جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ماضی میں مینوئل رجسٹری نسبتاً کم وقت میں مکمل ہو جاتی تھی، وہیں ای رجسٹریشن کے نفاذ کے ابتدائی مرحلے میں ایک رجسٹری مکمل ہونے کا اوسط دورانیہ 4 سے 6 دن تک ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ تکنیکی خرابی یا سرور ڈاون ہونے کی صورت میں یہی عمل سات دن بلکہ بعض اوقات دس روز تک موخر ہو جاتا ہے۔ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے ای رجسٹریشن سسٹم میں متعدد تکنیکی نقائص بھی سامنے آئے ہیں جن میں مختلف سرکاری ڈیٹا بیسز کا مکمل انضمام نہ ہونا، نادرا، ای اسٹامپ، ایف بیآر اور لینڈ ریکارڈ کے درمیان فوری ڈیٹا سنکرونائزیشن میں تاخیر، پراپرٹی کے ریکارڈ کی خودکار تصدیق میں رکاوٹ، سافٹ ویئر کی سست رفتار اور بعض اوقات ٹرانزیکشن کے دوران سسٹم کا فریز ہو جانا شامل ہیں۔ ای رجسٹریشن کے باوجود انڈر ویلیو رجسٹری کا رجحان مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا کیونکہ متعدد خریدار اور فروخت کنندگان مارکیٹ ویلیو کے بجائے ڈی سی ریٹ کے مطابق رجسٹری کو ترجیح دیتے ہیں جس کے باعث حکومت کو ممکنہ ریونیو میں کمی کا سامنا رہتا ہے۔ اسی طرح ٹیکسوں اور فیسوں کی ادائیگی کے حوالے سے جعلی یا مشکوک ادائیگیوں کی روک تھام کیلئے متعدد حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، تاہم بعض مقدمات میں ٹیکس کی ادائیگی سے متعلق بے ضابطگیوں اور کم مالیت ظاہر کرنے کی شکایات اب بھی سامنےآ رہی ہیں جن کی جانچ مختلف ادارے کر رہے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ای رجسٹریشن سے قبل مینوئل نظام میں جعلسازی، رجسٹری ریکارڈ میں ردوبدل، جعلی انتقالات، ڈپلیکیٹ دستاویزات اور ریکارڈ گم ہونے کے خدشات زیادہ تھے، جبکہ ای رجسٹریشن کے بعد ہر ٹرانزیکشن کی ڈیجیٹل ٹریسنگ، بائیومیٹرک تصدیق، الیکٹرانک ریکارڈ کی محفوظ اسٹوریج اورآن لائن تصدیق کے باعث جائیدادوں کے ریکارڈ کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تحفظ حاصل ہوا ہے۔ تاہم شہریوں اور قانونی ماہرین کے مطابق جب تک نظام کے تکنیکی مسائل، سرور کی استعداد، مختلف اداروں کے درمیان فوری ڈیٹا انضمام، مارکیٹ ویلیو کے مطابق خودکار ویلیوایشن، جعلی ادائیگیوں کی مکمل روک تھام اور رجسٹری کے عمل کو مزید تیز نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ای رجسٹریشن کے وہ تمام اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے جن کا اعلان اس نظام کے نفاذ کے وقت کیا گیا تھا۔ دوسری جانب متعلقہ حکام کا موقف ہے کہ ای رجسٹریشن ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے اور سسٹم میںآنے والی خامیوں کو مرحلہ وار دور کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو زیادہ تیز، محفوظ اور شفاف رجسٹریشن کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
جائیدادوں کی خریدوفروخت کیلئے ای رجسٹریشن میں تکنیکی و انتظامی مشکلات



















