لاہور (نوید چودھری) میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی سرکاری اراضی کو مبینہ طور پر لاوارث چھوڑ کر لینڈ مافیا کیلئے کھلا میدان بنا دینے کے چونکا دینے والے انکشافات نے بلدیاتی نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، جبکہ انتظامیہ کی پراسرار خاموشی، غفلت اور مبینہ چشم پوشی نے اس معاملے کو ایک بڑے انتظامی بحران کی شکل دیدی ہے۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق ملک میں 1999ءمیں تجارتی سرگرمیوں کو آسان بنانے اور شاہراہوں پر بلا تعطل نقل و حمل کو یقینی بنانے کے مقصد کے تحت جب محصول چونگیوں کا روایتی نظام ختم کر کے ان کے بدلے سیلز ٹیکس کا حصہ مقرر کیا گیا تو لاہور کے تمام داخلی و خارجی راستوں پر قائم تقریباً 26 چونگیوں کی قیمتی ترین اراضی اس وقت کے سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کی براہ راست ملکیت میں آ گئی تھیں تاہم پچھلے ڈھائی دہائیوں کے دوران سابقہ اور حالیہ انتظامیہ کی نااہلی اور چشم پوشی کا عالم یہ رہا کہ شہر کی ان شاہی اراضیوں کا تحفظ تو دور، انکا حساب کتاب تک رکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی۔ ”مشرق“ کو موصول ہونے والی تفصیلات سے معلوم ہوا ہے کہ ان 26 کے قریب چونگیوں کی انتہائی قیمتی اراضی میں سے محض چند کو چھوڑ کر باقی تمام سرکاری اراضیوں پر قبضہ مافیا نے پنجے گاڑ لیے ہیں اور ان پر غیر قانونی تعمیرات قائم کر لی گئی ہیں۔ اس پوری داستان کا سب سے بڑا اور بھیانک موڑ یہ ہے کہ ایم سی ایل کے پٹواریوں کے کھاتوں اور ریکارڈ میں یہ تمام پراپرٹیاں آج بھی سرکاری ملکیت کے طور پر موجود ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کے کسی اعلیٰ افسر نے آج تک اپنے ان پٹواریوں سے مقبوضہ اراضیوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں پوچھ گچھ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی ان پٹواریوں نے خود کبھی انتظامیہ کو حقیقت بتانے کی ہمت دکھائی۔ اندرونی ذرائع کے مطابق پٹواریوں کی اس بھیانک خاموشی کا اصل راز یہ ہے کہ وہ مبینہ طور پر ان غیر قانونی قابضین سے ماہانہ کی بنیاد پر اپنا "حصہ بقدر جثہ" خاموش رہنے کی مد میں وصول کر کے سرکاری خزانے پر ڈاکے کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ سابقہ چیف آفیسر شاہد عباس کاٹھیہ اور سابق ایم او ریگولیشن کاشف جلیل جیسے لامحدود اختیارات اور وسائل سے لیس افسران اپنی تعیناتیوں کے دوران ان اراضیوں کا سراغ لگانے میں مکمل طور پر ناکام رہے، جبکہ موجودہ انتظامیہ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مکمل بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ محکمے کا حال یہ ہے کہ جن چند چونگیوں کا سراغ مل سکا ہے، ان میں بالخصوص ایک شیخوپورہ خاکی روڈ کی پراپرٹی ہے جسے ماہانہ کرایے پر چڑھانے کو کوشش ہو رہی تھی، جبکہ دوسری جی ٹی روڈ پر واقع تھی، جسے بعد ازاں روڈ کی توسیع و تعمیر میں ایکوائر کیا گیا مگر اس ایکوائر کی جانے والی کروڑوں کی اراضی کا معاوضہ کہاں گیا اور اس کے کیا ثبوت ہیں، مبینہ طور پر اس کا کوئی نام و نشان کارپوریشن کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ بلدیاتی حلقوں نے نیب اور اینٹی کرپشن جیسے اعلیٰ احتسابی اداروں سے فوری مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مالیاتی جرم کا سخت نوٹس لیں اور ان تمام افسران سمیت پٹواریوں کے گٹھ جوڑ کی تحقیقات کریں جنہوں نے ذاتی مفادات یا مبینہ سودے بازی کے عوض بلدیہ عظمی کے اربوں روپے کے اثاثے لینڈ مافیا کے حوالے کر دیے۔
میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی قیمتی زمین لاوارث، لینڈ مافیا کیلئے کھلا میدان



















