لاہور (کرائم رپورٹر) لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں نئے شواہد، عدالتی بیانات اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ لاہور کی کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے گرفتار ملزمہ مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا جبکہ پولیس نے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیفنس کے فلیٹ سے اہم شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں۔لاہور کے جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت میں کیس میں نامزد ملزمہ مسکان کو سخت سکیورٹی میں پیش کیا گیا۔سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ملزمہ مسکان کا یہ پہلا جسمانی ریمانڈ ہے اور تفتیش کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ان کی تحویل ضروری ہے۔اس پر ملزمہ کے وکیل نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی موکل سے پولیس نے کچھ بھی برآمد نہیں کرنا اور قتل یا ڈکیتی کی دفعات کے بغیر ان کا ریمانڈ نہیں لیا جا سکتا، مزید یہ کہ مسکان کا تعلق ڈیانا سے صرف دوستی کی حد تک ہے۔عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ مسکان نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری ڈیانا سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی جہاں اس نے نمرہ اور میرے ساتھ موبائل نمبر شیئر کیا اور ہمیں مختلف پارٹیوں میں مدعو کرنے کا کہا۔کیس کے مرکزی ملزم محسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈیانا سے میری پہلی ملاقات 25ستمبر کو ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی تھی جبکہ دوسرے ملزم علی نے موقف اختیار کیا کہ ڈیفنس کے فلیٹ میں پارٹی کے دوران ڈیانا آپے سے باہر ہو گئی تھی اور غازی روڈ پہنچنے پر اس نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کر دی اور زبردستی گاڑی سے اتر گئی۔ملزمان کے مطابق صورتحال دیکھ کر وہ گھبرا گئے اورگاڑی بھگا دی،لڑکی کا پرس اور موبائل فون گاڑی میں رہ گیا،راستے میں موبائل فون اور پرس نالے میں پھینک دیا گیا۔اس سے قبل سماعت کے دوران جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ مسکان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنا میڈیکل کروانا ہے، تو ملزمہ نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے اپنا میڈیکل نہیں کروانا۔بعد ازاں عدالت نے گرفتار ملزمہ مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ۔دوسری جانب متاثرہ غیر ملکی خاتون ڈیانا نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں دفعہ 164کے تحت دیے گئے اپنے بیان میں الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں 13ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد اور بعد میں لاہور آئی تھی جہاں میری ملاقات نمرہ اور مسکان سے ہوئی۔ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ نمرہ نے ملزمان سے رقم لی جبکہ محسن، احمد اور علی زین نے مجھے اپارٹمنٹ کے ایک الگ کمرے میں بند کر کے زبردستی شراب پلائی اور مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان نے میرا آئی فون، ریڈمی موبائل فون اور دو لاکھ روپے نقد رقم سے بھرا بیگ چھین لیا اور گاڑی سے باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد مقامی شہریوں کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی گئی۔پولیس تفتیش کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو لڑکیوں اور تین مردوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے چھ قریبی دوستوں سے بھی تفتیش جاری ہے۔تفتیشی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ جوہر ٹاﺅن کے ایک کیفے سے ان کی تصاویر اور پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لی گئی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے دونوں موبائل فونز اور رقم کی برآمدگی کیلئے کارروائی جاری ہے اور پراسیکیوٹر کی جانب سے مانگے گئے تمام ریکارڈ کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔دوسری جانب خاتون کی پاکستان میں سرگرمیوں سے متعلق جہلم میں ان کے مبینہ نکاح کی دستاویزات اور ایک نوجوان کے ساتھ نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔آذربائیجانی خاتون ڈیانا کا مبینہ نکاح نامہ بھی سامنے آیا ہے، جس کے مطابق ان کی شادی جہلم میں ہوئی، جبکہ ویڈیو میں وہ دلہن کے روپ میں دکھائی دے رہی ہیں۔معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ سطح پر تفتیش جاری ہے جبکہ کیس سے جڑے تمام شواہد اور عدالتی بیانات پر باریک بینی سے پیش رفت کی جا رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ زیادتی کاجائے وقوعہ ایک فلیٹ ہے،جس کی نشاندہی کرکے شواہد اکٹھے کرلئے گئے ہیں، واقعہ کی مزید تفتیش جاری ہے۔
پارٹی کے دوران ڈیانا آپے سے باہر ہوئی، مبینہ زیادتی کیس میں ملزمان کے بیانات



















