لاہور (مرزا ندیم بیگ) انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے صوبے بھر کی جیلوں میں پیش آنے والے مختلف واقعات کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کیلئے سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ افسران کو واضح احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں کہ جیلوں کی سکیورٹی، انتظامی معاملات اور قیدیوں کی نگرانی کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ڈیوٹی میں کوتاہی، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور سکیورٹی کے معاملات میں غفلت ثابت ہونے پر ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی،ذرائع کے مطابق پنجاب کی مختلف جیلوں میں پیش آنے والے واقعات کے تناظر میں محکمہ جیل خانہ جات کی انتظامیہ نے سکیورٹی نظام کا ازسرنو جائزہ لینے اور جیلوں میں تعینات افسران و اہلکاروں کی ذمہ داریوں کو مزید موثر بنانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال نے واضح کیا ہے کہ جیلوں میں امن و امان برقرار رکھنا، قیدیوں کی حفاظت یقینی بنانا اور سرکاری ڈیوٹی کی ذمہ داریاں پوری کرنا متعلقہ افسران اور اہلکاروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی،ذرائع کا کہنا ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کے درمیان جھگڑوں، لڑائی کے واقعات اور دیگر انتظامی مسائل کی روک تھام کیلئے نگرانی کے نظام کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ جیل حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں، ڈیوٹی روسٹر پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور حساس مقامات پر سکیورٹی انتظامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی بروقت روک تھام کی جا سکے،آئی جی جیل خانہ جات کی جانب سے اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ جیلوں میں تعینات افسران اور اہلکار اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری، مستعدی اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔ قیدیوں کی نقل و حرکت، بیرکوں کے انتظامات، ڈیوٹی پر موجود عملے کی حاضری اور جیل کے اندر نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کیلئے مقررہ قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کسی واقعے کے رونما ہونے کی صورت میں اس کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرتے ہوئے حقائق کی روشنی میں کارروائی کی جائے،محکمہ جیل خانہ جات میں احتساب کے عمل کو مزید موثر بنانے کے حوالے سے بھی سخت موقف اختیار کیا گیا ہے۔ فرائض کی ادائیگی میں غفلت یا لاپرواہی کے الزامات سامنے آنے پر متعلقہ افسران اور اہلکاروں سے جواب طلبی، انکوائری اور قواعد کے مطابق محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی اہلکار کے خلاف حتمی کارروائی کیلئے الزامات کی باقاعدہ جانچ اور متعلقہ قانونی و محکمانہ طریقہ کار پر عمل درآمد ضروری ہوگا،ذرائع کے مطابق جیلوں میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے واقعات کی روک تھام کیلئے افسران کی نگرانی، عملے کی ذمہ داریوں کے تعین اور سکیورٹی انتظامات پر عمل درآمد کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ متعلقہ جیل حکام کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے یا خلاف ورزی کی صورت میں فوری طور پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے،واضح رہے کہ پنجاب کی جیلوں میں سکیورٹی برقرار رکھنا، قیدیوں کے تحفظ کو یقینی بنانا، جیل عملے کی کارکردگی بہتر بنانا اور قواعد و ضوابط پر عمل درآمد محکمہ جیل خانہ جات کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات میاں سالک جلال کے سخت اقدامات کے فیصلے کو اسی تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ دنوں میں جیلوں کے انتظامی معاملات اور سکیورٹی اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔
جیلوں میں سکیورٹی انتظامات سخت، نظم و ضبط کیلئے سخت ایکشن لیا جائیگا: میاں سالک جلال



















