فضل الرحمن سے رابطہ،مارچ ،مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے،وزیراعظم

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)وزیراعظم شہباز شریف کا سربراہ جے یو آئی فضل الرحمن سے ٹیلیفونک رابطہ ،مذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک ،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق فضل الرحمن نے کہا معاملات کے افہام و تفہیم سے حل کیلئے کردارادا کرنے کو تیار ہوں،ایمرجنسی یا گورنر راج سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوگا۔

شہبازشریف نے فضل الرحمن کی سیاسی بصیرت ،احتجاجی تحریک سے دورر ہنے کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہامذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بھرپور ، مخلصانہ کوشش کی گئی مگر خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کیخلاف اقدامات میں تعاون سے انکارمذاکرات ناکامی کاباعث بنا، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا غفلت بھی قابل قبول نہیں،فضل الرحمن نے کہاوفاقی حکومت ،پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کیلئے مذاکرات کو ایک اور موقع دیں۔

وزیراعظم نے کہا حکومت اب بھی مذاکرات کی حامی ہے اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے،پی ٹی آئی کو سمجھنا ہوگالانگ مارچ ، مذاکرات بیک وقت نہیں چل سکتے، ملکی معیشت کو مشکل حالات سے نکالا ،معاشی، سیاسی و داخلی استحکام چاہتے ہیں۔

فضل الرحمن نے سیاسی کشیدگی کم کرنے کےلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا فریقین سے بیک ڈور رابطے جاری رکھیں گے۔

اندرونی کہانی کے مطابق وفاقی حکومت نے 2روز تک خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نہ لگانے کی یقین دہانی کرادی، فوری ایمرجنسی نہ لگانے کی حکومتی یقین دہانی پر فضل الرحمن مشاورت پر تیار ہوئے،امیر جے یوآئی پارٹی قیادت ،اپوزیشن ،حکومت سے مزید رابطے کریں گے، فضل الرحمن نے جے یو آئی کے سینئر رہنماوں کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کردی،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دورہ چین منسوخ کردیا۔