اسلام آباد:(بیورورپورٹ)انا کی تسکین کیلئے لڑکی کے قاتل کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت عظمیٰ نے کہاشادی یا ریلیشن شپ سے انکار پر لڑکی کو قتل کرنا ایسا سنگین جرم جس کا مرتکب دیگر مجرموں کو حاصل قانونی رعایتیں لینے کا حق دار نہیں،عورت کوئی مال یا شے نہیں جس پر زبردستی قبضہ کیا جائے، اسلام میں بھی نکاح کیلئے عورت کی رضامندی بنیادی شرط ہے۔
فیصلے کے مطابق بدقسمتی سے صدیوں تک عورت مردوں کیلئے تبادلے کا سامان بنی رہی، وٹہ سٹہ ،ونی جیسی فرسودہ رسوم کی اب اجازت نہیں دی جائے گی، دیگر مجرموں کو سزا میں کمی کیلئے میسر رعایت عورت کے قاتل کیلئے نہیں، مجرم کامران کی نظرثانی درخواست خارج کی جاتی ہے۔
لڑکی کا قاتل قانونی رعایتیں لینے کا حق دار نہیں،سپریم کورٹ



















