ایک طرف دہشت گردی کیخلاف جنگ، دوسری طرف یہ بچوں کے قاتل ہیں: گورنر کے پی کے

پشاور (مشرق نیوز) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ایک طرف دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری ہے، دوسری طرف یہ بچوں کے قاتل ہیں، گرفتار سکول مالک کے علاوہ ملوث دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

دیر کالونی میں گورنر کے پی کے لواحقین سے ہمدردی کے اظہار کیلئے پہنچے اور سکول سانحہ کو انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے سانحات دیکھے لیکن یہ بہت بڑا سانحہ تھا، کسی کی اولاد اور بچہ واپس نہیں آسکتا، متاثرہ خاندانوں کیلئے امداد کا اعلان کیا تھا۔

گورنر نے بتایا کہ سکول سانحہ میں شہید ہونے والے ہر بچے کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے امداد دی جائیگی جبکہ سانحہ میں زخمی ہونے والوں کو تین، تین لاکھ روپے امداد دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ سکول کے معاہدے اور لیز سے متعلق تفصیلات فراہم کی گئی ہیں، سرکاری اور نجی سکولوں کو این او سی دینے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا، 15 دن میں ذمہ داری پوری کرکے سزا و جزا کا عمل تیز کیا جائیگا۔ سرکاری اور نجی سکولوں کا آڈٹ کروایا جا رہا ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سکول کی این او سی کہیں نہ کہیں موجود ہے، سکولوں سے متعلق 2017 میں قانون بنایا گیا تھا، جو بھی صوبہ یا یہاں کے بچوں کے ساتھ کھیلے گا، سخت ایکشن لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری سکولوں کی مانیٹرنگ کیلئے 15 دن رکھے گئے ہیں۔ صوبے کے تمام پرائیویٹ سکولوں کی انسپکشن رپوٹ 5 دن میں تیار ہوگی، سرکاری سکولوں کی رپورٹ 7 سے 10 دن میں تیار ہوگی، وزارت قانون کو کہا ہے کہ اس حوالے سے 15 روز میں قانون سازی کی جائے۔

گورنر کا کہنا تھا کہ سابق حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن پر بھی کارروائی ہوگی، جس افسر کے خلاف ثبوت ملے اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، رپورٹ کی تمام چیزیں شیئر کریں گے اور کسی دوست یا رشتہ دار کو نہیں بچاوں گا۔