خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ،گورنر راج نافذ، 11رکنی ایڈوائزری کونسل قائم

اسلام آباد: (بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ،گورنر راج نافذ، صدرآصف زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارش پر آرٹیکل232 کے تحت منظوری دےدی۔

اعلامیے کے مطابق صدر نے خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات ،امن و امان کی سنگین صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا،دہشتگردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت سے عوام کی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر دہشتگردحملے بڑھے،صوبائی حکومت دہشتگردی ،لاقانونیت کے موثر تدارک کےلئے مطلوبہ عزم ، اقدامات کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی۔

ایوان صدر کے اعلامیے میں کہا گیا گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کے تعطل ،صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام نہ کر سکنے کی نشاندہی کی گئی،خیبر پختونخوا میں سنگین ایمرجنسی کی صورتحال کے پیش نظر فوری آئینی اقدام ضروری ہے،صوبائی حکومت موجودہ حالات میں آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔

قبل ازیں وفاقی کابینہ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایمرجنسی لگانے کی منظوری دی، وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدرآصف زرداری کو خیبرپختونخوا میں حالات کی سنگینی دیکھتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنے کی باضابطہ سفارش کی گئی،وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کو تجویز دی صدر مملکت کو مشورہ دیں حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں آرٹیکل 232اور 234کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا جتھہ اسلام آباد آ کر دوبارہ پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لانا چاہتا ہے،خیبرپختونخوا میں ہر روز دہشتگردی،پانی سر سے اوپر ،فیصلے کا وقت اب نہیں تو پھر کبھی نہیں،قانون اپنا راستہ بنائے گا، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک ،بنوں جیسے علاقوں میں آئے روز حملے ہو رہے لیکن صوبائی حکومت خاموش ہے،اسلام آباد پر چڑھائی کا ناپاک منصوبہ بنایاگیااس سے زیادہ ملک دشمنی کی کوئی اور حرکت نہیں ہوسکتی،معاشی اشارئیے دن بدن بہتر ہورہے ہیں لیکن یہ پاکستان کا حشر نشر کرنا چاہتے ہیں۔

وفاق نے کے پی میں صوبائی معاملات چلانے کےلئے 11رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی۔

طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامرعبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر ،ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی،عامر جاوید،ڈاکٹر ایم ارشاد ،کفایت ،طیب قریشی،عثمان سیف ،آصف رفیق کونسل میں شامل ہیں،ثنا اللہ ایڈووکیٹ جنرل ہوں گے۔

وفاقی حکمنامے میں کہا گیا صوبائی حکومت کے امور متعلقہ آئینی دفعات ، خیبر پختونخوا گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق وفاقی حکمنامے سے ہم آہنگ انداز میں انجام دئیے جائیں گے، گورنر صوبائی امور کی انجام دہی کے دوران مشاورتی کونسل سے معاونت حاصل کریں گے۔