طبی و تشخیصی مراکز کی رجسٹریشن اور ٹیکس وصولیوں کیلئے پنجاب ہیلتھ کیئر متحرک

لاہور (میاں ساجد) پنجاب میں ایستھیٹک کلینکس، ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹرز، کاسمیٹک سرجری یونٹس اور دیگر طبی و تشخیصی مراکز کی رجسٹریشن، لائسنسنگ اور ٹیکس وصولیوں کے معاملہ پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن متحرک جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کے دائرہ کار میں آنے والے ان مراکز کی قانونی حیثیت، کاروباری سرگرمیوں اور مالی معاملات کی مو¿ثر نگرانی کو مد نظر رکھتے ہوئے مستند اعدادوشمار مرتب کئے گئے تاکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مراکز کی درست تعداد سامنے لاکر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موثر کاروائی کو عملی جامہ پہنایا جا ر ہا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب ریونیو اتھارٹی کے اشتراک سے باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں لا کر سروے کیا گیا۔ اس سروے کے دوان لاہور میں 50 سے زائد بڑے ایستھیٹک کلینکس کی نشاندہی ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار ترجمان ہیلتھ کیئر کمیشن نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا ۔ انکا کہنا تھا کہ لاہور میں قائم تمام بیوٹی، اسکن، لیزر اور ایستھیٹک کلینکس کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا جن کو باقاعدہ رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔۔ اسی طرح پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے پاس رجسٹرڈ طبی مراکز کی طبی مراکز کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ فیس ان کی نوعیت اور کیٹیگری کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ کاسمیٹک سرجری، ہیئر ٹرانسپلانٹ اور لائپوسکشن سینٹرز، سنگل اسپیشلٹی کلینکس اور پولی کلینکس کیلئے الگ الگ فیسیں مقرر ہیں۔۔ تاہم ان فیسوں کے موجودہ اطلاق، متعلقہ کیٹیگری اور تازہ ترین شیڈول کی تصدیق کے بعد پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن لاگو کرتا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب ریونیو اتھارٹی کی جانب سے بیوٹی، اسکن، لیزر اور ایستھیٹک خدمات فراہم کرنے والے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لاتا ہے۔ جس کے بعد قابلِ اطلاق سیلز ٹیکس کی شرح، استثنیٰ اور وصولی کے طریقہ کار کی تصدیق اتھارٹی کے موجودہ قواعد کے مطابق کرکے وصول کی جاتی ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا اینٹی کویکری ونگ غیر مستند طبی پریکٹس اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے مراکز کے خلاف کارروائی کرتا ہے۔ترجمان پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن پنجاب نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب میںاب تک 1,850 سے زائد معائنے اور 104 سے زیادہ مراکز کو قانونی نوٹس جاری کیے چکے ہیں۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن قواعد ضوابط کو مد نظر رکھتے ہوئے بغیر لائسنس طبی خدمات کی فراہمی، غیر مستند افراد کے ذریعے علاج اور مریضوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائیوں میں مصروف عمل ہے۔ جس میں طبعی شعبے سے وابستہ حلقوں کے مطابق اس معاملے میں محض جرمانوں اور سیلنگ تک محدود رہنے کے بجائے رجسٹریشن کے نظام کو مو¿ثر بنانے، لائسنسوں کی تجدید، طبی عملے کی اہلیت اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں کی نگرانی پر کوئی بھی سمجھوتہ ناقابل قبول ہے۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے دن و رات عملی کاوشوں سے قانونی طور پر کام کرنے والے مراکز اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے خلاف اپنی کاروائیوں کو تیز کیا ہے۔ تاکہ عوام کو اس سے آگاہ کرنے کیلئے آگاہی سیمنار کا بھی انعقاد کیا جا رہاہے۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان غیر رجسٹرڈ طبی مراکز کے خلاف عملی کاروائیوںکو تیز بھی کیا گیا جبکہ ان کو موقع پر جرمانے بھی عائد کئے جا رہے ہیں۔