لاہور (خبرنگار) بلدیہ عظمیٰ لاہور کے ایوانوں میں ضابطوں کی دھجیاں اڑانے اور میرٹ کا گلا گھونٹنے کی ایک اور مکروہ داستان بے نقاب ہو گئی ہے۔ شہر کی اشرافیہ بستی کہلانے والی جی او آر 6 حقدار مستحق ملازمین کی رہائشگاہیں بننے کے بجائے بااثر افسران کی یار باشیوں، دوستیوں اور رشتہ داریوں کی نذر کر دی گئی ہیں۔ قانون اور سنیارٹی فہرستوں کو پاوں تلے روندتے ہوئے صوابدیدی الاٹمنٹس کا بازار گرم کیا گیاہے۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں مزید تین مکانات صوابدیدی اختیار کے تحت الاٹ کئے گئے اور اس عمل میں سنیارٹی فہرست کے تمام قواعد و ضوابط کو صریحاً روند ڈالا گیا۔ جی او آر 6 کی رہائش گاہیں اصل میں کارپوریشن کے اپنے ملازمین کا حق ہیں، مگر جی او آر 6 سمیت دیگر کالونیوں میں دوسرے محکموں کے ملازمین اور غیر متعلقہ افراد برسوں سے قابض چلے آ رہے ہیں۔ اس دھاندلی اور نا انصافی کے خلاف کارپوریشن ملازم کاشف بیگ نے سرکاری رہائش کو اپنا جائز حق سمجھتے ہوئے انصاف کی امید پر محکمہ لوکل گورنمنٹ میں درخواست جمع کرائی۔ محکمے کو معاملے کی تہ تک پہنچنے کیلئے ابتدائی انکوائری کرنا پڑی، جس کے بعد فیصلہ درخواست گزار کے حق میں سنا دیا گیا۔ انکوائری میں قرار دیا گیا کہ رہائش کا اصل حق درخواست گزار کا ہے اور اسے فوری طور پر گھر الاٹ کیا جانا عین انصاف ہے۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس فیصلے کو آج چار ماہ سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر اس پر عمل درآمد کی کوئی سبیل پیدا نہیں کی گئی۔ جس فیصلے نے کاشف بیگ کے دل میں انصاف کی آس جگائی تھی، وہ بلدیہ عظمیٰ کی فائلوں کے ڈھیر تلے دفن پڑا ہے اور درخواست گزار آج بھی اپنے تسلیم شدہ حق کیلئے دفتروں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہے۔ ملازمین کا حق مار کر افسران کی عیاشیاں اور اقربا پروری اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ بلدیہ عظمیٰ لاہور کی انتظامیہ قانون کی عمل داری قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ایک طرف ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق دینے سے گریز کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر سرکاری گھر بانٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ کارپوریشن حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام اس کھلی ناانصافی کا فوری نوٹس لیں اور انکوائری رپورٹس کو سرد خانے کی نذر کرنے والوں کا محاسبہ کریں۔
جی او آر 6 میں سرکاری رہائشگاہیں مستحقین کی بجائے من پسند افراد میں تقسیم


















