لاہور (خبر نگار) بلدیہ عظمیٰ لاہور کے شعبہ ٹاون پلاننگ نے نشتر زون کے علاقے بیدیاں روڈ پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین بڑی کمرشل مارکیز کے خلاف آپریشن کیا۔ مذکورہ مارکیز رہائشی علاقوں میں واقع ہیں جہاں ضوابط کے مطابق نہ تو کمرشلائزیشن فیس ادا کی گئی اور نہ ہی نقشہ فیس۔ ان میں ایک زیر تعمیر جبکہ دو پہلے سے تعمیر شدہ تھیں۔ یہ آپریشن بلدیہ عظمیٰ کے ایڈمنسٹریٹر کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز اور چیف کارپوریشن آفیسر کلیم یوسف کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا۔ اس موقع پر میٹروپولیٹن آفیسر پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز حسن کے ہمراہ ایم او آر جواد الحسن گوندل اور سٹیٹ مینجمنٹ آفیسر بھی فیلڈ میں براہ راست موجود تھے۔ ایڈمنسٹریٹر کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے ہدایت کی ہے کہ ایسی تمام غیر قانونی کمرشل تعمیرات کا آڈٹ کر کے نہ صرف سخت کارروائی کی جائے بلکہ جرمانہ اور بقایا جات کی فی الفور وصولی بھی یقینی بنائی جائے۔ ایم او پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز حسن نے بتایا کہ یہ مارکیز ٹاون پلاننگ سے این او سی لئے بغیر، پارکنگ پلان اور فائر سیفٹی کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بنائی گئی تھیں۔ بیدیاں روڈ پر سیاسی پشت پناہی کے باعث اب تک ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں، تاہم اب انتظامیہ نے زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ چیف کارپوریشن آفیسر کلیم یوسف کا کہنا ہے کہ جس بھی افسر کی حدود میں اس قسم کی غیر قانونی تعمیرات ہوئیں، ان کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ماسٹر پلان کے مطابق یہ علاقہ رہائشی زون میں شمار ہوتا ہے جہاں اس قسم کی کمرشل مارکیز کی بغیر کمرشلائزیشن فیس ادا کئے قطعاً اجازت نہیں تھی۔ دوسری جانب ان غیر قانونی تعمیرات سے نہ صرف رہائشی علاقوں میں کمرشل سرگرمیاں فروغ پا رہی ہیں بلکہ مستقبل میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے اور نشتر زون کے پہلے سے دباو¿ کا شکار سیوریج سسٹم پر مزید بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان مارکیز کا ویسٹ براہ راست ڈرین میں جا رہا تھا۔ ڈاکٹر رائے امتیاز حسن نے واضح کیا کہ یہ آپریشن محض کارروائی تک محدود نہیں بلکہ ماسٹر پلان کی اصل حالت اور عملداری بحال کرنے کی کوشش ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل کے تحت اگلے مرحلے میں بیدیاں روڈ، گجومتہ اور کاہنہ نو میں مزید ایسے مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے جہاں اس طرز کی غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں۔
نشتر زون، غیرقانونی تعمیراتی کیخلاف کریک ڈاﺅن، 3 بڑی مارکیز کیخلاف ایکشن



















