اسلام آباد:(بیورورپورٹ)پی ٹی آئی کے 2 اراکین اسمبلی ،ایک ن لیگی کارکن سمیت 4افراد کی ایم پی او آرڈر کے تحت نظربندی کےخلاف درخواستیں غیر موثر ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا درخواستیں نمٹانے کا مطلب غیر قانونی نظر بندی کو آئینی یا قانونی قرار دینا نہیں، 26ویں ترمیم کے بعد ہائیکورٹ درخواست کے مندرجات یا استدعا سے ہٹ کر ازخود احکامات جاری نہیں کرسکتی، قیاس آرائی یا مفروضے کی بنیاد پر عدالت اس مواد پر آئینی اختیار استعمال نہیں کرسکتی جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہی نہ ہو۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا21 ستمبر 2026 کے نظر بندی احکامات کا قانونی اثر ختم ہو چکا ، 3 اکتوبر 2026 کے نظر بندی احکامات کی قانونی حیثیت پر عدالت نے کوئی رائے نہیں دی کیونکہ بعد کے نظر بندی احکامات کو عدالت کے سامنے چیلنج ہی نہیں کیا گیا، بعد میں جاری نظر بندی احکامات کو چیلنج کیے بغیر قانونی حیثیت پر فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔
عدالت نے آبزرویشن دی احتیاطی نظر بندی کا غیر معمولی اختیار من مانے انداز میں استعمال نہیں کیا جاسکتا، احتیاطی نظر بندی کے اختیار کا استعمال آئین ، متعلقہ قانون کی مقررہ حدود کے اندر ہونا چاہیے، نظر بندی کی وجوہات 15دن کے اندر زیر حراست شخص کو بتانا آئینی تقاضا ، زیر حراست شخص کو نظر بندی کےخلاف موثر نمائندگی کا جلد از جلد موقع فراہم کرنا لازم ہے،محض قانونی نمائندگی دائر نہ کرنے سے غیر قانونی نظر بندی آئینی جانچ پڑتال سے بالاتر نہیں ہو جاتی، نظر بندی کے احکامات کو من مانے انداز میں جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
نظر بندی احکامات کے نفاذ میں من مانی کی اجازت نہیں دے سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ


















