لاہور (میاں ذیشان) فیڈرل انوسٹی گیشن اتھارٹی نے بیرون ملک ملازمت، تعلیم اور ویزوں کا جھانسہ دیکر شہریوں سے لاکھوں کروڑوں روپے بٹورنے والے انسانی سمگلروں، جعلی ٹریول ایجنٹس اور کنسلٹنسی مافیا کے خلاف کریک ڈاﺅن جاری ہے۔ رواں سال مختلف کارروائیوں میں سینکڑوں ملزمان گرفتار، متعدد مقدمات و انکوائریز درج جبکہ کروڑوں روپے کا فراڈ بے نقاب کیا گیا۔ ایف آئی اے کی کارروائیوں کے دوران بعض کیسوں میں متاثرین سے ہتھیائی گئی رقوم بھی برآمد کرکے انہیں واپس کی گئیں۔ شہریوں کو فراڈ مافیا سے بچانے کیلئے ایئرپورٹس پر سخت سکریننگ، جعلی ویزوں کی جانچ، انسانی سمگلروں کے خلاف مقدمات، گرفتاریاں اور آگاہی مہم سمیت متعدد اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق بیرون ملک ملازمت، تعلیم، جعلی ویزوں، اسٹڈی پرمٹ اور بہتر مستقبل کا خواب دکھا کر شہریوں سے لاکھوں کروڑوں روپے بٹورنے والے ٹریول ایجنٹس، جعلی ٹریول و اسٹڈی کنسلٹنسیوں، غیر قانونی اوورسیز ایمپلائمنٹ ایجنٹس اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے نے رواں سال ملک گیر کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، ذرائع کے مطابق فیصل آباد زون میں رواں سال مئی تک انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی بیرون ملک منتقلی کے خلاف کارروائیوں میں 232 ملزمان گرفتار، 1134 انکوائریاں اور 326 مقدمات درج کیے گئے جبکہ ملزمان سے برآمد ہونے والی 11 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد رقم متاثرین کو واپس کی گئی، جو اس امر کا نمایاں ثبوت ہے کہ بیرون ملک جانے کے خواہش مند شہری بڑے پیمانے پر منظم فراڈ کا شکار ہو رہے ہیں۔ لاہور اور دیگر علاقوں میں بھی کارروائیوں کے دوران جعلی ویزا اور روزگار کے نام پر شہریوں سے رقم ہتھیانے والے متعدد ملزمان گرفتار ہوئے، جن میں جنوری میں چار ملزمان نے شہریوں سے برطانیہ کے ورک ویزوں کے نام پر 2 کروڑ روپے سے زائد وصول کیے جبکہ دیگر دو ملزمان سعودی عرب بھیجنے کے نام پر فی شہری ساڑھے چار لاکھ روپے لینے کے الزام میں گرفتار کیے گئے، مارچ میں مزید تین ملزمان پر جعلی بیرون ملک ورک ویزوں کے ذریعے شہریوں سے 30 لاکھ روپے سے زائد ہتھیانے کے الزامات سامنے آئے، جبکہ فروری میں چار ملزمان کی گرفتاری کے دوران برطانیہ، آئرلینڈ، میانمار، سعودی عرب اور قطر کے ویزوں کے نام پر لاکھوں روپے کے فراڈ کے کیسز سامنے آئے۔ مئی میں جنوبی پنجاب میں ایف آئی اے نے مزید سات ملزمان کو گرفتار کیا جن پر سعودی عرب، ملائیشیا اور عمرہ ویزوں کے نام پر شہریوں سے مجموعی طور پر 45 لاکھ روپے سے زائد وصول کرنے کے الزامات تھے، جبکہ اپریل میں گوجرانوالہ زون میں ایک ٹریول ایجنسی اور اسٹڈی کنسلٹنسی پر چھاپے کے دوران دو ملزمان گرفتار، 70 پاکستانی پاسپورٹ برآمد اور بڑی تعداد میں ورک، وزٹ اور اسٹوڈنٹ ویزوں کے نام پر شہریوں سے رقم وصول کرنے کے شواہد ملے۔ اگست میں گوجرانوالہ ریجن میں مزید 16 انسانی اسمگلروں کی گرفتاری اور تقریباً 2 کروڑ 90 لاکھ روپے کے مالی فراڈ کا انکشاف ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض نیٹ ورک باقاعدہ منظم انداز میں شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے کے نام پر رقوم وصول کر رہے ہیں۔ جولائی میں بھی مختلف کارروائیوں کے دوران 11 انسانی اسمگلروں سمیت 12 ملزمان گرفتار کیے گئے جن پر امریکہ، سعودی عرب، پرتگال، کینیڈا، اٹلی، قطر اور آذربائیجان میں ملازمت دلانے کے نام پر شہریوں سے ایک کروڑ 96 لاکھ روپے وصول کرنے کا الزام تھا، جبکہ ایک دوسرے کیس میں کینیڈین ورک پرمٹ کے نام پر رقم وصول کرنے والا ملزم بھی گرفتار ہوا۔ ستمبر میں لاہور کے گلبرگ مین مارکیٹ میں کارروائی کے دوران ایک مبینہ جعلی ویزا ایجنٹ کو گرفتار کرکے 17 پاکستانی پاسپورٹ، 13 جعلی البانین ویزا منظوری دستاویزات اور 12 جعلی مہریں برآمد کی گئیں، جبکہ اسلام آباد میں برطانیہ کے اسٹوڈنٹ ویزا فراڈ کے کیس میں ایک کنسلٹنسی کے سربراہ کو گرفتار کرکے متاثرہ خاندان کی 16 لاکھ روپے کی مکمل رقم واپس کرائی گئی۔ اکتوبر میں بھی ایف آئی اے نے سعودی عرب میں ملازمت دلانے کے نام پر فراڈ کرنے والے تین ایجنٹس سے 4 لاکھ 50 ہزار روپے برآمد کرکے مکمل رقم متاثرہ شہری کو واپس کی، جبکہ ملتان زون میں اسی ماہ چار ویزا فراڈ کیسز میں مزید ملزمان گرفتار ہوئے جن پر مجموعی طور پر 26 لاکھ 90 ہزار روپے ہتھیانے کے الزامات ہیں۔ دوسری جانب ایف آئی اے نے صرف گرفتاریوں تک کارروائیاں محدود رکھنے کے بجائے انسانی اسمگلنگ کے تدارک کیلئے ایئرپورٹس پر مسافروں کی اسکریننگ، جعلی ویزوں اور سفری دستاویزات کی جانچ، مشکوک مسافروں کی آف لوڈنگ، بلیک لسٹنگ، ایگزٹ کنٹرول لسٹ، انٹرپول کے ذریعے ریڈ وارنٹ کے حصول، بین الاقوامی رابطہ دفاتر، انٹر ایجنسی ٹاسک فورس اور 24 گھنٹے شکایتی نظام جیسے اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کو بارہا ہدایت کی جا رہی ہے کہ بیرون ملک ملازمت کیلئے صرف لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز سے رابطہ کیا جائے، ایجنٹ کی قانونی حیثیت اور لائسنس کی تصدیق کے بغیر کسی کو رقم یا پاسپورٹ نہ دیا جائے، اسٹڈی ویزا کے نام پر یونیورسٹی کی فیس براہ راست متعلقہ تعلیمی ادارے کے تصدیق شدہ ذرائع سے جمع کرائی جائے، جعلی آفر لیٹر، ویزا منظوری، ڈیمانڈ لیٹر اور ورک پرمٹ کی صورت میں فوری طور پر ایف آئی اے کو اطلاع دی جائے اور کسی ایجنٹ کے دباﺅ یا دھمکی سے خوفزدہ ہونے کے بجائے شکایت درج کرائی جائ، ایف آئی اے نے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ اینڈ اسمگلنگ شکایات کیلئے باقاعدہ پورٹل، ہیلپ لائن اور متعلقہ دفاتر کا نظام بھی فراہم کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ بیشتر متاثرین ابتدائی مرحلے پر ایجنٹوں کی قانونی حیثیت، لائسنس اور دستاویزات کی تصدیق نہیں کرتے اور بڑی رقوم نقد یا غیر رسمی ذرائع سے ادا کر دیتے ہیں، جس کے بعد رقم واپس لینا اور ملزمان کے خلاف ناقابل تردید شواہد اکٹھے کرنا مشکل ہو جاتا ہے؛ چنانچہ ایف آئی اے کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کیلئے ضروری ہے کہ بیرون ملک ملازمت یا تعلیم کے نام پر ملنے والی ہر پیشکش کی دستاویزی تصدیق، ادائیگی کا بینک ریکارڈ اور ایجنٹ کی قانونی حیثیت لازماً چیک کریں، کیونکہ دستیاب اعدادوشمار واضح کر رہے ہیں کہ یہ محض چند افراد کا انفرادی فراڈ نہیں بلکہ مختلف شہروں میں پھیلے ہوئے ایسے نیٹ ورکس کا مسئلہ ہے جو شہریوں کی بیرون ملک جانے کی خواہش کو منظم مالی دھوکے اور انسانی اسمگلنگ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
انسانی سمگلروں، جعلی ٹریول ایجنٹس ، کنسلٹنسی مافیا کیخلاف کریک ڈاون، سینکڑوں گرفتار



















