نیویارک (مشرق نیوز) عالمی بینک نے پاکستان کی ترقیاتی صورتحال سے متعلق سال 2026 کی اقتصادی رپورٹ جاری کر دی جس میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 26-2025 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ عالمی بینک کے مطابق ایس اینڈ پی اور موڈیز نے پاکستان کی قرضوں کی درجہ بندی بہتر کی ہے جبکہ پاکستان نے عالمی منڈی میں 750 ملین ڈالر اور 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی جاری کیے۔
رپورٹ کے مطابق زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی جس میں لائیو سٹاک نے اہم کردار ادا کیا جبکہ خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی، پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 19.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں جبکہ مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد کے برابر رہ گیا۔ عالمی بینک کے مطابق مالی سال 26-2025 میں عمومی مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی جبکہ سٹیٹ بینک نے شرح سود بڑھا کر 11.5 فیصد کر دی۔
مالی سال 27-2026 میں معاشی نمو 3.8 فیصد رہنے جبکہ رواں سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالی سال 25-2024 میں مہنگائی کی اوسط شرح 4.5 فیصد تھی جو گزشتہ مالی سال میں بڑھ کر 7.1 فیصد ہو گئی، مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی کے دباو میں شدت پیدا کی۔
عالمی بینک کے مطابق مارچ سے جون 2026 کے دوران مہنگائی کی اوسط شرح 10.2 فیصد رہی جبکہ مئی 2026 میں یہ بڑھ کر 11.7 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ مالی سال 26-2025 میں شہری علاقوں میں غذائی مہنگائی کی اوسط شرح 4.3 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 5.4 فیصد ریکارڈ کی گئی، گندم اور جلد خراب ہونے والی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے غذائی مہنگائی کو بڑھایا۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2026 تک شہری اور دیہی علاقوں میں مہنگائی بڑھانے میں غذائی اشیا کا سب سے بڑا حصہ رہا۔ بتایا گیا ہے کہ فروری سے جون 2026 کے دوران پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 36 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 فیصد اور مائع پیٹرولیم گیس کی قیمت میں تقریباً 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اسی عرصے میں ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔
عالمی بینک کے مطابق مارچ 2026 سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے دباو¿ میں شدت آئی، مالی سال 26-2025 میں بنیادی مہنگائی کی اوسط شرح شہری علاقوں میں 7.4 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.5 فیصد رہی جبکہ مئی 2026 میں شہری علاقوں میں بنیادی مہنگائی کی شرح 9 فیصد تک پہنچ گئی۔
عالمی بینک کی پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی



















