سوشل میڈیا پر شہرت کے نام پر گالم گلوچ، خواتین کے خلاف نازیبا گفتگو اور معروف شخصیات کی تضحیک کرنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔۔۔ چودہ لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والا ٹک ٹاکر شاہزیب سیالکوٹی این سی سی آئی اے کے شکنجے میں آ گیا۔۔۔ اینکر بشریٰ شکیل کی شکایت، نازیبا ویڈیو اپ لوڈ کرنے کا مقدمہ اور پھر سیالکوٹ میں چھاپہ۔۔۔ کارروائی کے دوران ایک سام سنگ اور ایک آئی فون بھی برآمد ہوا، حکام کے مطابق آئی فون سے شکایت سے متعلق ویڈیو بھی ملی ہے۔۔۔ شاہزیب سیالکوٹی پر ماضی میں بھی خواتین، صحافیوں اور معروف شخصیات کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے اور متنازع گفتگو کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔۔۔ لیکن اس بار معاملہ سوشل میڈیا کی بحث سے نکل کر قانون کے دروازے تک پہنچ گیا۔۔۔ آخر یہ کارروائی کیسے ہوئی؟ بشریٰ شکیل نے کیا شکایت کی؟ اور پیکا ایکٹ کے تحت ہونے والی تحقیقات میں موبائل فونز سے کیا شواہد ملے؟
مشرق ڈیجیٹل کے اس رپورٹ میں ہم نہ صر ف اس واقعہ بل کہ شاہ زیب سیالکوٹی سے متعلق بھی کئی ایسے حقائق سامنے لانے والے ہیں جو کسی انکشاف سے کم نہیں۔
لیکن ہم سب سے پہلے این سی سی آئی کی جانب سے کی جانے والی کارروائی اوراس کی وجوہات سے متعلق آپ کو بتائیںگے ۔
جی ہاں ویورز ۔۔۔۔۔۔۔سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز، کروڑوں لائکس اور متنازع ویڈیوز کے ذریعے شہرت پانے والے ٹک ٹاکر شاہزیب سیالکوٹی کو این سی سی آئی اے لاہور نے گرفتار کر لیا۔
حکام کے مطابق کارروائی سیالکوٹ کی ایک نجی سوسائٹی میں کی گئی، جہاں سے ملزم کو حراست میں لیا گیا۔
شاہزیب سیالکوٹی کے خلاف ایک خاتون بشریٰ شکیل سے متعلق نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
تحقیقات مکمل کرنے کے بعد کارروائی کی گئی، جبکہ گرفتاری کے دوران ملزم کے قبضے سے دو موبائل فون، ایک سام سنگ اور ایک آئی فون، برآمد ہوئے۔
ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر کے مطابق، آئی فون سے متعلقہ ویڈیو بھی ملی ہے اور ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
موبائل فونز سے حاصل ہونے والے ڈیجیٹل مواد کی جانچ اس معاملے میں اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ اس سے مبینہ ویڈیو اور شکایت کے درمیان تعلق کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
شاہزیب سیالکوٹی کے خلاف کارروائی سائبر کرائم سے متعلق قانون، پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ تاہم، مقدمے میں پیکا ایکٹ کی کون سی مخصوص دفعات شامل کی گئی ہیں، اس کی تفصیل فی الحال سامنے نہیں آئی ۔
موبائل فونز سے مبینہ ویڈیو ملنے کی اطلاع تحقیقات میں اہم پیش رفت ہے، لیکن ڈیجیٹل مواد کی قانونی حیثیت، اس کی صداقت اور مقدمے سے اس کے تعلق کا تعین تفتیش اور فرانزک تجزیے کے بعد ہوگا۔
اس معاملے میں معروف اینکر بشریٰ شکیل کا مؤقف بھی سامنے آیا ہے۔ بشریٰ شکیل کے مطابق، چند روز قبل شاہزیب سیالکوٹی نے ایک ویڈیو میں ان کے خلاف نازیبا الفاظ اور نامناسب القابات استعمال کیے تھے، جس پر انہوں نے این سی سی آئی اے لاہور میں باقاعدہ درخواست جمع کرائی۔
بشریٰ شکیل کا کہنا ہے کہ ان کی درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے ناصر علی رضوی نے تحقیقات کی ہدایت کی، جس کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی کی۔
شاہ زیب سیالکوٹی کی گرفتاری کے بعد اپنے ردعمل میں بشریٰ شکیل نے کہا کہ خواتین کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے ڈی جی این سی آئی اے ناصر علی رضوی اور این سی سی آئی اے لاہور کی ٹیم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
بشریٰ شکیل کے مطابق، شاہزیب سیالکوٹی یہ دعویٰ کرتا تھا کہ کوئی اس سے معافی نہیں منگوا سکتا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ان لوگوں کے لیے بھی اہم قرار دیا جو سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور تضحیک کا سامنا کرنے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔
شاہزیب سیالکوٹی کی گرفتاری کے بعد اس کے ماضی کے بیانات اور سوشل میڈیا سرگرمیاں بھی زیرِ بحث ہیں۔ اس کے ناقدین کی جانب سے پہلے بھی خواتین، صحافیوں اور دیگر معروف شخصیات کے خلاف نازیبا الفاظ، گالم گلوچ اور تضحیک آمیز گفتگو کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ مذہبی معاملات پر مبینہ متنازع گفتگو کے حوالے سے بھی اسے تنقید کا سامنا رہا ہے۔
ناقدین کا مؤقف ہے کہ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کے لیے کسی کی تضحیک کرنا یا ذاتی حملے کرنا اختلافِ رائے کے دائرے سے باہر جا سکتا ہے۔ تاہم، ماضی کے ہر الزام کو الگ شواہد کی بنیاد پر جانچنا ضروری ہے، اور غیر مصدقہ دعوؤں کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
شاہ زیب سیالکوٹی کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر گرفتاری سے قبل تقریباً چودہ لاکھ فالوورز اور بارہ کروڑ سے زائد لائکس ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں تک رسائی رکھنے والے صارف کے لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ آیا سوشل میڈیا پر اثرورسوخ کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی موجود ہے یا نہیں۔
شاہزیب سیالکوٹی کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر مواد شائع کرنے والوں کی قانونی ذمہ داری کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
فالوورز کی تعداد کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، آن لائن سرگرمیاں بھی قانون کے دائرے میں آتی ہیں۔ تاہم، گرفتاری کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا اور ملزم کو اپنے دفاع کا مکمل قانونی حق حاصل ہے۔ اب نظریں این سی سی آئی اے کی مزید تحقیقات، ڈیجیٹل شواہد اور عدالتی کارروائی پر ہیں، جہاں اس معاملے کی اصل قانونی حیثیت واضح ہوگی۔
ٹک ٹاکرشاہزیب سیالکوٹی گرفتار!بشریٰ شکیل کے الزامات پر NCCIAکاایکشن


















