لاہور ( خصوصی انٹرویو: میاں ساجد / عکاسی میاں شاہنواز ) پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی دل کے مریضوں کیلئے امید کی کرن، الحمداللہ دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کیلئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کسی نعمت سے کم نہیں، جدید علاج ہنگامی طبی سہولیات اور انسانی خدمت ہماری ترجیحات ،جس میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں ہوتی، پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی محض ایک ہسپتال نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کی امیدوں دعاﺅں اور زندگی کی بحالی سے وابستہ ایک بڑا اور پاکستان کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے ، یہاں دل کے دورے، کورونری شریانوں کی بیماری، دل کے والوز کے امراض، پیدائشی قلبی نقائص اور دیگر پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے مختلف شعبے کام کرتے ہیں۔ ادارے میں انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، پیس میکر کی تنصیب، دل کے آپریشن اور انتہائی نگہداشت سمیت متعدد سہولیات دستیاب ہیں۔مریض کی جان بچانا، اس کے دکھ کو کم کرنا اور اسے معیاری علاج تک رسائی فراہم کرنے میں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا کوئی ثانی نہیں۔ اس فریضہ کو نبھانے کیلئے ہمارے معالج نرسنگ پیر امیڈیکل اور ہمارے ڈاکٹرز قابل ستائش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسر ڈاکٹر سید عمران الحسن شاہ نے روزنامہ ”مشرق“ کو خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ادارہ نہیں، ایک نعمت ہے۔ دل کے مریضوں کی زندگی بچانا ہمارا مشن، مریض کی صحت یابی تک جدوجہد جاری رہتی ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی محض ایک طبی ادارہ نہیں بلکہ دل کے امراض میں مبتلا مریضوں اور ان کے اہل خانہ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہاں آنے والے ہر مریض کی طبی ضروریات کو پورا کرنا، بروقت علاج فراہم کرنا اور اسے صحت یاب کرکے معمول کی زندگی کی طرف واپس لانے کیلئے بھرپور جدوجہد کرنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ مریضوں کی جان بچانا اور ان کی دکھتی رگوں پر مرہم رکھنا ہمارے پیشہ ورانہ فرائض کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت کا عظیم مشن بھی ہے۔ اس مشن کی ادائیگی میں لمحہ بھر کی تاخیر بھی ہمارے لئے قابل قبول نہیں، کیونکہ دل کے امراض میں بروقت طبی امداد زندگی اور موت کے درمیان فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔سربراہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسر ڈاکٹر سید عمران الحسن نے مزید کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے تمام شعبہ جات مریضوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہمہ وقت سرگرم عمل ہیں۔ ادارے کی ایمرجنسی 24 گھنٹے فعال رہتی ہے، جہاں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف اور پیرا میڈیکل عملہ اپنے فرائض انجام دیتا ہے تاکہ دل کے امراض میں مبتلا مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دل کے مریضوں کے علاج میں وقت کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی لیے ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی طبی کیفیت کا فوری جائزہ لینے، ضروری تشخیصی مراحل مکمل کرنے اور علاج کی فراہمی کیلئے متعلقہ عملہ مستعد رہتا ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی مریض کو محض وسائل کی کمی یا بروقت توجہ نہ ملنے کے باعث مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مریض کی آمد سے لے کر اس کی طبی حالت میں بہتری اور صحت یابی تک علاج کے تمام مراحل کو اہمیت دی جاتی ہے۔سربراہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسر ڈاکٹر سید عمران الحسن نے کہا کہ یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں پاکستان کے طول و عرض سے دل کے امراض میں مبتلا مریض علاج کیلئے آتے ہیں۔ مختلف شہروں اور دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو امید ہوتی ہے کہ انہیں یہاں بہترین طبی رہنمائی اور علاج کی سہولیات میسر آئیں گی۔ ادارے کی انتظامیہ اور طبی عملہ اس اعتماد پر پورا اترنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لانے میں لمحہ کو بھی ضائع نہیں کر تے ، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا صحت کے شعبے میں بہتری، عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری ہسپتالوں میں علاج کے معیار کو بہتر بنانے کا ویڑن ہمارے لئے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے ادارے کے تمام شعبوں کی کارکردگی کو مو¿ثر بنانا اور علاج کے نظام میں بہتری لانا ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔جس پر دن و رات عملی کاوشیں معمول کا حصہ ہیں ، سربراہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسر ڈاکٹر سید عمران الحسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کسی بھی ہسپتال کی اصل کامیابی صرف عمارتوں، مشینری یا طبی آلات کی موجودگی سے نہیں بلکہ مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، عملہ کے رویہ علاج کے معیار اور مریضوں کی صحت یابی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت ہماری کوشش ہے کہ مریض اور اس کے اہل خانہ کو علاج کے دوران بہتر رہنمائی، توجہ اور تعاون فراہم کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کسی بھی طبی ادارے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت، احساس ذمہ داری اور مریضوں کے ساتھ حسن سلوک علاج کے عمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ٹیم اسی جذبے کے ساتھ خدمات انجام دے رہی ہے کہ ہر مریض کو اس کی ضرورت کے مطابق بروقت طبی امداد ملے اور اسے صحت یابی کے بہترین ممکنہ مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ سربراہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پروفیسر سید عمران الحسن شاہ کا کہنا تھا کہ کہ مریضوں کی خدمت ہمارے لئے محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس ذمہ داری ہے۔ دل کے امراض میں مبتلا افراد اور ان کے اہل خانہ شدید ذہنی دباو¿ اور پریشانی سے گزرتے ہیں۔ ایسے میں طبی علاج کے ساتھ انہیں حوصلہ، اعتماد اور مناسب رہنمائی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی آنے والا ہر مریض اس احساس کے ساتھ علاج حاصل کرے کہ اس کی زندگی اور صحت ہمارے لئے اہم ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں مریضوں کی فلاح و بہبود، طبی سہولیات کی بہتری اور انسانی خدمت کے جذبے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے عملی کاوشیں جاری و ساری ہیں۔ مسیحائی کا اصل تعارف اور اعزاز جس پر نسلیں فخر اور اللہ کے مقرب رشک کرتے ہیں مریض کی زندگی بچانا، اس کے چہرے پر اطمینان لوٹانا اور اسے صحت یاب ہو کر اپنے اہل خانہ کے پاس واپس بھیجنا ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی پہچان اور ہماری خدمات کا اصل مقصد ہے۔جس پر ہمارے ڈاکٹرز نرسنگ سٹاف پیرا میڈیکل سٹاف قابل ستائش ہیں۔ جو اپنے فرض کو نبھانے کے مستعد اور تیار ہیں۔
پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی غریبوں کیلئے نعمت سے کم نہیں: سید عمران الحسن شاہ


















