لاہور(قاضی ندیم اقبال) مشیر برائے وزیر اعلیٰ پنجاب و چیئر مین امور مذہبیہ کمیٹی داتا دربار علی ڈارنے کہا ہے کہ نفرت اور عدم برداشت دو بنیادی عوامل ہیں جو تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیںجبکہ اس کے مقابلے میں محبت، مساوات،برداشت اور امن پسندی جیسے عوامل رواداری کو معاشرے میں فروغ دینے میں بھر پور کردار ادا کر سکتے ہیں۔مکالمے اور تحقیق کے کلچر کو فروغ دے کر ہم منفی مواد کی روک تھام ممکن بنا سکتے ہیں۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور گائیڈ لائنز کی روشنی میں سالانہ عرس تقریبات میں شرکت کے لئے آنے والی شخصیات اور زائرین کے جان و مال کے تحفظ اوران کو ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی کیلئے امور مذہبیہ کمیٹی داتا دربار، حقیقی معنوں میں محکمہ اوقاف پنجاب کے معاون کے طور پر کام کر رہی ہے۔جبکہ عرس تقریبات کو شایان شان انداز میں منعقد کرنے کے حوالے سے تمام وفاقی، صوبائی اور ضلعی ادارے محکمہ اوقاف پنجاب کے آن بورڈ رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے983ویں سالانہ عرس کی افتتاحی تقریب کے بعد دوران گفتگو کیا۔انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ نے برصغیر پاک و ہند میں علم وعمل،شریعت وطریقت،حقیقت ومعرفت کے گراں قدرخزینے کچھ اس کثرت سے بانٹے کہ ”گنج بخش فیض عالم“کالازوال لقب پایا۔آپکی علمی،فکری اوردینی خدمات کی وجہ سے شاعر مشرق علامہ اقبال نے آپ کوان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیاہے۔یعنی آپ قرآن مجیدکی عزت کے محافظ ہیں اورآپکی نگاہ ولایت سے باطل کاگھرویران ہوگیا۔آپکے دم قدم سے سرزمین پنجاب میں اسلام زندہ ہوگیا۔آپ کے آفتاب ولایت سے ہماری صبح روشن ہوگئی۔آپ تصوف کے مدونین فن اوراماموں میں سے ہیں۔ مشیر وزیر اعلی پنجاب نے کہا کہ پاکستان کوپوری دنیامیں اسلام کاقلعہ کہاجاتاہے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے اس کی وجہ اس سرزمین پربزرگان ملت اولیاءکرام کی تشریف آوری ہے،جنہوں نے شبانہ روزدین کی تبلیغ کرکے پاکستان کوقلعہ اسلام بنادیااسی وجہ سے یہاں کے لوگ بزرگان ِ دین اولیاءکرام کی تعلیمات اوران کے نقش قدم پرعمل پیراہیں مسلمانان پاکستان کے دلوں میں اسلام پرمرمٹنے کاشوق شہادت اورجذبہ جہادزیادہ پایاجاتاہے۔ علی ڈار نے کہا کہ اولیاءکرام نے ہردورمیں پیغام حق عام کیااوربھٹکی ہوئی انسانیت کوحق کی راہ دکھائی۔صوبہ پنجاب کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے۔ یہ سرزمین حضرت داتا گنج بخشؒ اور دیگربزرگان دین اولیاءکرام کامرکزرہی ہے یہاں لوگ مغربی طرزِ تعلیم کے بجائے اولیاءکرام کی تعلیمات پرعمل پیراہیں۔تاریخ کے اوراق گواہ ہیں نبی کریم کی ظاہری زندگی کے بعداسلام کی تبلیغ وترویج کابیڑاامت مصطفی ،اولیاءکرام نے اٹھایا۔خلفائے راشدین سے لیکرموجودہ دورتک اسلام کی خدمات میں صلحاءامت کاکردارنمایاں ہے۔ان پاکیزہ نفوس نے دین اسلام کے فروغ کی خاطرلازوال قربانیاں پیش کیں۔ دین مصطفی کوبلندیوں تک پہنچایا،بلکہ ہردورکے محدثین،مبلغین،اتقیا ،اولیاءومشائخ عظام نے کفرکے خلاف سینہ سپرہوکربقائے اسلام کی جنگ لڑی۔ تاریخی قربانیاں دیکردین مصطفی کے علم کوبلندفرمایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی اسلام کی خوشبودنیامیں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے یہودوہنوددیگرطاغوتی قوتیں اسلام کی مقبولیت دیکھ کر بوکھلاہٹ کاشکارہیں۔اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ان کی ناپا ک سازشوں کوخاک میں ملانے کیلئے بزرگان دین کی تعلیمات ہمارے لئے سر چشمہ ہدایات ہے۔
نفرت ، عدم برداشت تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں: علی ڈار


















