واشنگٹن، جارجیا: (بیورو رپورٹ) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیز فائر میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کےساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ،حالات تیزی سے معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
انٹرویوز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تہران کسی بھی طرح معاہدہ کرنا چاہتا ہے، امریکہ مداخلت نہ کرتا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے، ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے، عارضی جنگ بندی کی بجائے مستقل معاہدہ زیادہ بہتر حل ہے، دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل جاری ہے، سیزفائر میں توسیع کا نہیں سوچ رہا اور اسکی ضرورت بھی نہیں، آنے والے 2 دن انتہائی اہم اور غیر معمولی ہوں گے، جنگ کا اختتام کسی بھی صورت میں ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے معاہدہ زیادہ بہتر آپشن ہے، معاہدے کی صورت میں ایران کو دوبارہ تعمیر کا موقع ملے گا، تہران میں اب مختلف نظام قائم، انتہاپسند عناصر کو ختم کردیا، میں صدر نہ ہوتا تو دنیا تباہی کا شکار ہو چکی ہوتی، امریکی کارروائیوں نے ایران کے جوہری عزائم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، نیٹو امریکہ کیلئے موثر ثابت نہیں ہوا، اتحاد ماضی میں ساتھ کھڑا ہوا نہ ہی مستقبل میں ہوگا۔
دریں اثنا ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز مستقل بنیادوں پر کھلوانے پر چین خوش، آبی گزر گاہ اب دوبارہ کبھی بند نہیں ہوگی، چین نے بدلے میں ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کرلیا، چند ہفتوں میں جب چین جاﺅں گا تو صدر شی جن پنگ مجھے پرجوش طریقے سے گلے لگائیں گے، سمجھداری اور بہت اچھے طریقے سے ملکر کام کر رہے ہیں، یاد رکھیں امریکی لڑنے میں بہت اچھے ہیں، اگر لڑنا پڑ گیا تو کسی بھی دوسرے سے خود کو بہتر ثابت کریں گے۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کیساتھ مذاکرات جاری ہیں، صدر ٹرمپ چھوٹی نہیں جامع ڈیل چاہتے، پاکستان کی ثالثی میں زبردست پیشرفت ہوئی لیکن بداعتمادی ایک رات میں ختم نہیں ہوسکتی، بڑی بات ہے 49 سال میں پہلی بار تہران کےساتھ اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ہورہی ہے، ایرانی جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ نے مجھے نیک نیتی سے بھیجا، جنگ بندی برقرار ہے، ڈیل ایسی ہو ایرانی عوام عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں۔
عارضی جنگ بندی کی بجائے مستقل معاہدہ بہتر حل،جنگ ختم ہونے کے قریب ہے: ٹرمپ


















