اسلام آباد:(بیورورپورٹ)ٹھوس وجہ کے بغیر التوا مانگنے پر وکیل کےخلاف ہرجانے سمیت سخت کارروائی ہوگی،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے تحریری حکمنامہ جاری کرتے ہوئے غیر ضروری التوا کی درخواستوں پر عباس علی کی درخواست مسترد کردی۔
سپریم کورٹ نے کہا وکیل کو ذاتی مصروفیات کی مبہم بنیاد پر التوا دینا کسی قانونی منطق سے مطابقت نہیں رکھتا، التوا مانگنے کی روایت پیشہ ورانہ ڈسپلن کی کھلی خلاف ورزی ہے، سپریم کورٹ رولز 2025 کے تحت التوا صرف ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست پر مل سکتا ،کاز لسٹ میں واضح ہدایات کے باوجود وکلا کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی پر افسوس ہے۔
فیصلے میں کہا گیا آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ سپریم کورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے مارچ 2026 کے دوران 653 التوا مانگے گئے، زیادہ تر التوا تب مانگے گئے جب عدالتیں تیار تھیں، قیمتی عدالتی وقت ضائع ہوا، التوا کا براہ راست اثر عوامی خزانے پر پڑتا کیونکہ نظامِ عدل قوم کے ٹیکس سے چلتا ہے، کیس مقرر ہونے پر عدالتی عملہ، انفراسٹرکچر، سکیورٹی، انتظامی وسائل استعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا غیر ضروری التوا انصاف تک رسائی میں رکاوٹ اور آرٹیکل 10 اے کے تحت فیئر ٹرائل کے حق کےخلاف ہے، التوا کا حق کوئی استحقاق نہیں بلکہ صرف غیر معمولی حالات میں عدالت کی صوابدید ہے۔
ٹھوس وجہ کے بغیر التوا مانگنے پر وکیل کیخلاف سخت کارروائی ہو گی، سپریم کورٹ



















