لاہور (کامرس رپورٹر) وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ میں توسیع اور ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی گزشتہ ایک سال کے دوران جاری مہم کے نتیجے میں لاکھوں نئے ٹیکس دہندگان نظام میں شامل ہوئے جبکہ محصولات کی وصولی میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران جدید ڈیجیٹل نظام، بینکنگ لین دین، جائیدادوں، گاڑیوں، بجلی و گیس کے کنکشنز اور دیگر سرکاری ریکارڈ کی مدد سے بڑی تعداد میں نان فائلرز اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نشاندہی کی گئی۔ اس مہم کا مقصد ایسے افراد اور کاروباری اداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا جو ٹیکس کی اہلیت رکھنے کے باوجود رجسٹرڈ نہیں تھے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ٹیکس سال 2025 میں 59 لاکھ سے زائد انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے گئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 17.6 فیصد زیادہ ہیں، جبکہ 36 لاکھ سے زائد ٹیکس دہندگان نے ٹیکس ادائیگی کے ساتھ اپنے گوشوارے جمع کرائے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مالی سال 2025-26ءمیں 10 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر میں رجسٹریشن، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کی کارروائیاں جاری ہیں۔ محصولات کے حوالے سے ایف بی آر حکام نے بتایا کہ مالی سال 2025-26ءکے ابتدائی سات ماہ کے دوران 7,176 ارب روپے سے زائد ٹیکس وصول کیا گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ حکام کے مطابق اس بہتری کی بڑی وجہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، نان فائلرز کے خلاف اقدامات اور رضاکارانہ ٹیکس تعمیل میں اضافہ ہے۔ ایف بی آر کے مطابق غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی نشاندہی، پوائنٹ آف سیل سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ اور رسک بیسڈ آڈٹ جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکس چوری کی روک تھام کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کی مدد سے ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دی جائیگی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، تاہم غیر دستاویزی معیشت کا حجم اب بھی بڑا چیلنج ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو ٹیکس نظام کو مزید آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نئے رجسٹر ہونے والے ٹیکس دہندگان مستقل بنیادوں پر نظام کا حصہ بن سکیںواضح رہے کہ ایف بی آر نے اب تک گزشتہ ایک سال کے دوران نان فائلرز اور غیر رجسٹرڈ کاروباروں کی مجموعی نشاندہی اور ان سے ہونے والی براہ راست ریکوری کی مکمل تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کیں، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اس مہم کے باعث ٹیکس نیٹ میں خاطر خواہ وسعت اور محصولات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ایف بی آر ٹیکس نیٹ توسیع مہم، لاکھوں نئے افراد رجسٹر، محصولات میں نمایاں اضافہ



















