محکمہ جیل خانہ جات، وارڈرز کی ڈیوٹی کے دورانیہ میں کمی، سکیورٹی خدشات

لاہور (مرزا ندیم بیگ)صوبہ بھر کی جیلوں میں تعینات وارڈرز کی ڈیوٹی کے دورانیہ میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اسے 4 گھنٹے سے بڑھا کر 8 گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ وارڈرز کی جانب سے طویل عرصے سے کئے جانے والے مطالبات کے بعد عمل میں لایا گیا، تاہم اس اقدام کے بعد سکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات بھی سامنے آنے لگے ہیں،ذرائع کے مطابق ماضی میں وارڈرز سے 4،4 گھنٹے کی شفٹوں میں ڈیوٹی لی جاتی تھی جس کا مقصد انہیں چوکنا اور مستعد رکھنا تھا، کیونکہ جیل سکیورٹی ایک حساس معاملہ ہے جہاں معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم وارڈرز کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ بار بار شفٹ تبدیلی سے نہ صرف جسمانی تھکن بڑھتی ہے بلکہ ذاتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے، جس پر حکام نے ڈیوٹی کا دورانیہ بڑھانے کا فیصلہ کیا،حکام کا کہنا ہے کہ وارڈرز کو جیلوں میں رہائش، میس، طبی سہولیات اور دیگر مراعات پہلے سے فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ نئی پالیسی کے تحت ان کی ورکنگ کنڈیشن بہتر بنانے پر بھی توجہ دی گئی ہے،دوسری جانب سکیورٹی ماہرین کا خیال ہے کہ 8 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی کے باعث وارڈرز میں تھکن پیدا ہو سکتی ہے جس سے چوکسی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، خاص طور پر رات کی شفٹوں میں یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے محکمہ جیل خانہ جات کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق جیلوں میں ریپڈ رسپانس فورسز کو فعال کر دیا گیا ہے اضافی نفری کو اسٹینڈ بائی رکھا گیا ہے،سی سی ٹی وی نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا گیا ہے،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے باقاعدہ موک ایکسرسائزز کا انعقاد کیا جا رہا ہے،حساس جیلوں میں ہائی الرٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے،حکام کے مطابق نئی ڈیوٹی پالیسی کے باوجود سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے،دوسری جانب وارڈرز نے 8 گھنٹے کی ڈیوٹی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ان کی زندگی میں توازن آئے گا اور وہ بہتر انداز میں فرائض انجام دے سکیں گے، تاہم انہوں نے اضافی نفری کی تعیناتی اور آرام کے اوقات کار میں بہتری کا مطالبہ بھی کیا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 8 گھنٹے کی ڈیوٹی عالمی سطح پر ایک معمول ہے، تاہم جیل جیسے حساس اداروں میں اس پر موثر عملدرآمد کے لیے نفری، تربیت اور ٹیکنالوجی کا کردار انتہائی اہم ہے،مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ نئی پالیسی وارڈرز کے مسائل کے حل کی جانب ایک قدم ہے، لیکن اس کے ساتھ سکیورٹی کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے سخت مانیٹرنگ اور موثر انتظامات ناگزیر ہوں گے۔