لاہور:(نمائندہ خصوصی)وزیر اعلیٰ مریم نواز کا ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مفت گھروں کی فراہمی کا منفرد منصوبہ، 720محنت کش اپنے گھروں کے مالک بن گئے۔
مریم نوازنے محنت کشوں کو فلیٹ کی چابی دے کر گھروں کی فراہمی کا باقاعدہ آغازکیا،پیسی کے زیر اہتمام 720فلیٹس فراہمی کی تقریب میں خصوصی شرکت کی،مفت فلیٹس و دیگر جاری پراجیکٹس پر بریفنگ دی گئی،وزیراعلیٰ نے محنت کشوں میں بلا معاوضہ فلیٹس کے الاٹ منٹ لیٹرز اور چابیاں تقسیم کرتے ہوئے کہااپنی چھت،اپنا گھر،اپنا مکان مبارک ہو۔
دریں اثنا وزیراعلیٰ مریم نوازنے تمام اضلاع کو خود مختار بنانے کا تاریخی فیصلہ کرلیا ،پنجاب بھر میں اضلاع کے اپنے مالی وسائل سے اربوں کی لاگت سے ترقیاتی کاموں کا آغازکیا جائے گا،مریم نواز کی زیر صدارت کمشنرز کا اہم اجلاس ہوا ،ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت مقامی ریونیو سے عوامی فلاح کے منصوبوں کی منظوری دی گئی،کمشنرز ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان نے دستیاب وسائل ،مجوزہ ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مریم نواز نے کڑے سوالات کیے اور کہا آئی واش نہیں، گراونڈ ورک چاہیے،کمشنرز اب ایئر کنڈیشنزکمروں میں نہیں، فیلڈ میں نظر آئیں،وزیر اعلیٰ نے فیصل آباد ڈویژن میں نجی سوسائٹی میں 3 سالہ بچی اوپن ڈچ (کھلے گڑھے) میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعہ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی اگر کوئی شہری مین ہول میں گرا تو سوسائٹی مالکان کو گرفتار کیا جائے،نجی ہاوسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ کھلے مین ہولز نہ ہونے کا بیان حلفی لیاجائے، تمام کنسٹرکشن سائٹس کو باقاعدہ ایس او پیز کے مطابق کارڈن آف کیا جائے تاکہ کوئی حادثہ نہ ہو،کمشنرز خود فیلڈ وزٹ کریں،تمام کے پی آئیز (KPIs) کی کڑی نگرانی کو یقینی بنائیں ۔
وزیراعلیٰ نے کہا تمام تحصیلوں میں ڈیپ کلیننگ (Deep Cleaning) کے عمل کو یقینی بنایا جائے، کچھ افسروں کی کارکردگی بہتر لیکن کچھ نے صرف ”آئی واش“ (Eye wash) بنایا ہوا ہے،زمین پر اتنا کام نظر نہیں آ رہا جتنا آنا چاہیے تھا،عوام کو ریلیف ملنا چاہیے،کمشنرز حکومت کی آنکھیں، کان اور بازو ہیں، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ضلعی انتظامیہ کو میرے اعتماد کی لاج رکھنی ہوگی،غفلت کی گنجائش نہیں،مانیٹرنگ کا میکانزم ایسا ہونا چاہیے کہیں بھی کوتاہی کی گنجائش نہ رہے، کسی کی سفارش یا اقربا پروری نہیں صرف میرٹ پر کام ہوگا۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیاساہیوال ڈویژن کےلئے لوکل گورنمنٹ کے 4 ارب کے فنڈز موجود ہیں، ساہیوال شہر و گردونواح میں 1.12 ارب سے ترقیاتی کیے جائیں گے،862 ملین روپے کی لاگت سے 18.8 کلومیٹر طویل 10 اہم سڑکیں تعمیر ہوں گی، ستمبر 2026 تک ساہیوال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا جن شہری سڑکوں کی مدت پوری ہو چکی انہیں دوبارہ جدید معیار پر تعمیر کیا جائے گا،دیہی علاقوں میں فارم ٹو مارکیٹ سڑکوں کا جال بچھایا جائے گا، ساہیوال ڈی پی او چوک سے ڈی پی ایس چوک تک 3.2 کلومیٹر طویل سڑک بنے گی، فرید ٹاو¿ن روڈ کی اپ گریڈیشن اور شیر دل چوک سے سمندری روڈ کی تعمیر ہوگی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے ساہیوال میں عالمی معیار کی سڑکیں بنانے کا حکم دیا اور ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی سڑکوں کےساتھ لیول پر فٹ پاتھ (Pavements) کی تعمیر لازمی،ساہیوال شہر کے داخلی راستے پر خوبصورت اور پرکشش انٹری پوائنٹ بنایاجائے۔
نئی تاریخ رقم،پنجاب میں720محنت کش اپنے گھروں کے مالک بن گئے



















