واسا میں 291 ارب روپے کے غیرملکی و حکومتی منصوبے تاحال منظوری کے منتظر

لاہور (اپنے نمائندے سے) واسا کے 291 ارب روپے کے غیر ملکی و حکومتی منصوبے، بڑے پراجیکٹس تاحال منظوری کے منتظر۔ واسا لاہور کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے پانی و سیوریج کے شعبے میں 291 ارب روپے کے منصوبے سامنے آ گئے، تاہم اربوں روپے کی فنانسنگ دستیاب ہونے کے باوجود متعدد بڑے منصوبے تاحال حتمی حکومتی منظوری اور عملی پیشرفت کے منتظر ہیں، جس کے باعث مختص فنڈز کا استعمال محدود رہا۔ واسا ذرائع کے مطابق ایشین انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک نے لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ کیلئے 235 ملین ڈالر کا پیکیج منظور کیا ہے۔ اس میں تقریباً 31 ارب روپے کا سطحی پانی کا منصوبہ شامل ہے جس کے تحت بی آر بی کینال سے پانی ٹریٹ کرکے لاہور کو فراہم کیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں بھسین روڈ کے قریب 100 کیوسک کا پلانٹ لگایا جائے گا، جسے بعدازاں 1000 کیوسک تک توسیع دینے کی منصوبہ بندی ہے منصوبے کا بنیادی مقصد زیرِزمین پانی پر لاہور کا انحصار کم کرنا ہے۔ AIIB پیکیج میں 100 فیصد واٹر میٹرنگ، بلنگ اور ریکوری سسٹم بھی شامل ہے، جبکہ واسا کے مطابق نان ریونیو واٹر کو موجودہ تقریباً 45 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے سیوریج کے شعبے میں 155 ارب روپے سے زائد کے چار بڑے منصوبے شامل ہیں، جن میں بابو سابو ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ 50.2 ارب، کٹار بند 23.5 ارب، بی آر بی کینال پلانٹ 32.2 ارب اور لیرچ کالونی تا گلشن راوی 32 کلومیٹر ٹرنک سیور 49 ارب روپے کا منصوبہ شامل ہے۔ ان منصوبوں کیلئے AIIB کی اضافی فنانسنگ بھی زیرِعمل ہے ذرائع کے مطابق فرانس کی ترقیاتی ایجنسی AFD کی 12 ملین یورو گرانٹ بھی گورننس، ڈیجیٹل نظام اور آلات کی بہتری کیلئے مختص ہے۔ تاہم سطحی واٹر پراجیکٹ کا PC-I سی ڈی ڈبلیو پی سے منظور ہونے کے باوجود ECNEC کی حتمی منظوری باقی ہے، جبکہ بڑے سیوریج منصوبوں پر عملی تعمیراتی کام بھی سست روی کا شکار ہے واسا کیلئے چیلنج اب فنڈز کا حصول نہیں بلکہ منصوبوں کی بروقت منظوری، ٹینڈرنگ اور عملی تکمیل ہے کیونکہ تاخیر کے باعث لاہور کے پانی اور سیوریج کے دیرینہ مسا ئل بدستور برقرار ہیں۔