پاک بحریہ کشیدہ علاقائی صورتحال میں تجارتی آمدورفت یقینی بنا رہی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد (مشرق نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے یوم بحریہ پاکستان 8 ستمبر 2026 کے موقع پر پیغام میں کہا کہ میں پاک بحریہ کے افسران، جوانوں، اور اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس تاریخی دن ہم پاک بحریہ کے شہدا، غازیوں، سابق اہلکاروں اور موجودہ افسران و جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع کیلئے اپنی بے مثال خدمات انجام دیں اور آج بھی جرات، قربانی اور فرض شناسی کے جذبے کے ساتھ اپنا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 8 ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران پاک بحریہ کے عزم، شجاعت اور ثابت قدمی کی یاد تازہ کرنے والا ایک قابل فخر اور ولولہ انگیز دن ہے، اسی روز پاک بحریہ نے بھارتی بحری تنصیب دوارکا کے خلاف تاریخی آپریشن ’سومناتھ‘ کامیابی سے انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بڑی اور بھاری اسلحہ سے لیس دشمن قوت کے مقابلے میں ہمارے بحری جہازوں نے انتہائی درستگی کے ساتھ کارروائی کرتے ہوئے دشمن کی اہم ساحلی تنصیبات کو تباہ کیا اور سمندر میں نفسیاتی برتری قائم کی، بحر ہند میں ہماری آبدوز ’غازی‘ کی موجودگی نے دشمن کی نقل و حرکت کو مزید مفلوج کر دیا اور بحری جنگ کی تاریخ میں ایک سنہرا باب رقم کیا۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ 2025 کے معرکہ حق کے دوران بھی پاک بحریہ نے اسی جذبے اور اعلیٰ عملی تیاری کا مظاہرہ کیا جس کے باعث عددی برتری رکھنے والا دشمن سمندر میں کسی بھی جارحانہ کارروائی سے باز رہا۔انکا کہنا ہے کہ موجودہ تزویراتی منظرنامے میں پاک بحریہ کی ذمہ داریاں کئی گنا بڑھ گئی ہیں، پاک بحریہ ہماری بین الاقوامی بحری مواصلاتی گزرگاہوں اور تجارت کیلئے اہم بحری راستوں کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

انکا کہنا ہے کہ کہ آبنائے ہرمز پر حالیہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری سرگرمیوں میں مشکلات کے تناظر میں پاک بحریہ نے ایک بار پھر اپنے عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقائی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے باوجود پاکستانی پرچم بردار تجارتی جہازوں، بالخصوص پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے جہازوں، کی بلا تعطل آمدورفت کو یقینی بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ روایتی سلامتی کے تقاضوں سے بڑھ کر پاک بحریہ دنیا بھر میں پاکستان کی مثبت اور پ±رامن شناخت کے فروغ میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے، اس کی ’امن‘ مشق اور ’امن ڈائیلاگ‘ جیسے اقدامات کا مقصد عالمی بحری برادری کو ’امن کیلئے متحد‘ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ کو خطے میں عملی اور تکنیکی تعاون، بحری صنعتی روابط، باہمی تربیتی تبادلوں اور بحری سفارتکاری کے تناظر میں بھرپور خیرسگالی حاصل ہے۔

وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آج پاک بحریہ ہمارے سمندروں کی ایک مضبوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس محافظ قوت کے طور پر نمایاں ہے جس نے اپنی قیادت کے تزویراتی وڑن اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کئے گئے جدیدیت کے پروگرام کے تحت نمایاں ترقی حاصل کی ہے۔

انکا مزید کہنا ہے کہ جدید ترین میلجم طرز کے کارویٹس، ہانگور کلاس آبدوز، مختلف نوعیت کے فضائی اثاثوں اور ملکی سطح پر تیار کئے گئے کروز اور بیلسٹک میزائلوں کی کامیاب شمولیت اس عزم کی عکاس ہے کہ ابھرتے ہوئے بحری چیلنجز سے موثر اور کارآمد انداز میں نمٹنے کیلئے پاک بحریہ کو جدید اور مخصوص صلاحیتوں سے لیس کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت اور پاکستان کے عوام کو پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور عملی تیاری پر مکمل اعتماد ہے، مجھے یقین ہے کہ پاک بحریہ اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے جرات، عزت و وقار اور امتیاز کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہے گی۔