تہران،واشنگٹن،ابوظہبی،ریاض:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)جنگ میں پھر شدت،5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ ،ایران کا منہ توڑ جواب، اردن میں امریکی اہداف پر میزائلوں کی بارش ،خلیج فارس،آبنائے ہرمز میں متعدد بحری جہاز وں کونشانہ بنانے کادعویٰ کردیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہافورسز نے 5 ایرانی خام تیل بردار جہاز تباہ کر دئیے،کارروائی پاسداران انقلاب کی جانب سے 2روز کے دوران امریکی بحری جنگی جہاز پر 2مرتبہ بیلسٹک میزائل حملوں کی کوشش کے بعد کی گئی،جنگی جہاز نے دونوں حملوں میںکامیابی سے بچاو کیا اور علاقائی پانیوں میں گشت جاری رکھا، کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایران نے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے اردن میں امریکی اہداف پر میزائلوں کی بارش کردی،ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اردن کے ”الازرق“ میں واقع امریکی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ،امریکی فوجی اڈوں پر اصفہان، تہران، تبریز و خرم آباد سے درجنوں میزائل داغے گئے۔
پاسداران انقلاب نے کہاخلیج فارس میں 2 امریکی بحری جہازوں ،8 آئل ٹینکرز ،آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ،امریکہ سے انتقام لیتے ہوئے دشمن کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ۔
اپنے بیان میں پاسداران انقلاب نے کہا کویت ،بحرین کی بندرگاہوں پر لنگرانداز تمام آئل ٹینکرز فوری طور جگہ چھوڑ دیں، عملہ جہازوں سے فوری طور پر نکل جائے، لنگرانداز یا بندرگاہوں پر موجود تمام ٹینکرز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،کویت ،بحرین امریکی کارروائیوں میں شراکت دار ہیں۔
ترجمان پاسداران انقلاب نے کہاتازہ حملوں کے بعد تمام امریکی بحری جہاز ایران کی ساحلی حدود سے کم از کم 400 کلومیٹر دور پیچھے ہٹ گئے ،ایران غیر مجاز بحری جہازوں کی نقل و حرکت روک کر اور دشمن کے بحری ہتھیاروں کا راستہ بند کر کے اپنی طاقت کا بھرپور مظاہرہ کر رہا ہے،جنگ سے قبل خلیج فارس میں تقریباً 30 سے 40 امریکی جنگی جہاز موجود تھے لیکن اب خطے میں ایک بھی امریکی جنگی جہاز باقی نہیں رہا اور تمام امریکی جہاز ایرانی ساحل سے کم از کم 400 کلومیٹر دور ہٹ گئے،ایرانی فورسز 400 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور ایرانی فورسز نے حال ہی میں 500 کلومیٹر کے فاصلے پر موجودامریکی طیارہ بردار جہاز کو بھی نشانہ بنایا۔
علاوہ ازیں پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے ممنوعہ علاقے میں بحیرہ عمان ،بحیرہ عرب تک توسیع کردی، ممنوعہ زون کی درست حدود کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی حملوں کے جواب میں مسلح افواج نے دفاع کے جائز حق کے تحت اردن میں امریکی فوجی اڈوں ،تنصیبات کو نشانہ بنایا کیونکہ اردن ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں معاونت کر رہا ہے،ایرانی فورسز نے خطے میں متعدد امریکی بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹ کام نے کہا مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری جنگی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ غلط ،کسی امریکی بحری جنگی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا ،پاسداران انقلاب کے تمام حملے ناکام رہے،امریکی فورسز نے ایک ہفتے کے دوران ایران کے 10 آئل ٹینکرز تباہ کیے، ٹینکرز پاسداران انقلاب کو مالی معاونت فراہم کرنے والے اربوں ڈالر کے خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
ادھر جبرالٹر کے پرچم بردار آئل پراڈکٹس ٹینکر ہرکولیس سٹارکو چارٹر کرنےوالی کمپنی پیننسولا نے تصدیق کی دبئی کے ساحل پر لنگر انداز جہاز پر پیش آنےوالے حادثے میں عملے کا رکن ہلاک ہو گیا ،میری ٹائم سکیورٹی ذرائع کے ابتدائی جائزوں کے مطابق قوی امکان ہے جہاز کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب سعودی عرب نے حوثیوں کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے یمن کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے،سعودی جنگی طیاروں کی جانب کی یمن کے صوبوں مارب، الجوف ،تعز میں متعدد فضائی حملے کیے گئے،یمنی حوثیوں نے دعویٰ کیا سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں میں ٹھکانوں پر 32 سے زائد فضائی حملے کئے۔
جنگ میں پھر شدت،5 ایرانی تیل بردار جہاز تباہ،تہران کامنہ توڑ جواب،میزائلوں کی بارش

















