لاہور(خبر نگار)ستھرا پنجاب ایجنسی کے واہگہ ٹاون کے زون 11 اور 12 محمود بوٹی یارڈ میں انتظامی بدنظمی، مبینہ بھتہ خوری اور سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال نے صفائی کے نظام کو شدید متاثر کر رکھا ہے۔ ایجنسی کی جانب سے ڈور ٹو ڈور کچرا کلیکشن کو موثر بنانے کے دعوﺅں کے برعکس یارڈ کے اندرونی معاملات ہی اس آپریشن کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محمود بوٹی یارڈ میں مجموعی طور پر 183 رکشے موجود ہیں جبکہ ڈرائیوروں کی تعداد تقریباً 210 ہے۔ ان میں لگ بھگ 50 رکشے اکثر خراب حالت میں کھڑے رہتے ہیں تاہم ان کیلئے بھی روزانہ چار، چار لیٹر پٹرول جاری کیا جاتا ہے۔ خراب اور غیر فعال رکشوں کے نام پر جاری ہونے والے پٹرول کا استعمال کہاں اور کیسے ہو رہا ہے، اس کا کوئی واضح انتظامی ریکارڈ سامنے نہیں آ سکا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یارڈ میں ایک بااثر گروہ نے اپنا متوازی نظام قائم کر رکھا ہے جو ڈرائیوروں سے مبینہ طور پر روزانہ 100 روپے فی رکشہ وصول کرتا ہے۔ رکشہ خراب ہونے کی صورت میں اسے ورکشاپ بھجوانے کے عوض بھی مبینہ طور پر اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔ مبینہ بھتہ مافیا کی گرفت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈرائیوروں کی بھرتی اور برطرفی میں بھی اسی گروہ کے اثر و رسوخ کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بھتہ دینے سے انکار کرنے والے ڈرائیوروں کو مبینہ طور پر ملازمت سے فارغ کرنے یا دباو کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینئر منیجر سرکل ون محسن صبور کو مافیا کا کردار ادا کرنے والے حمزہ اور عمر نامی افراد کی مبینہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاتا رہا ہے، تاہم موثر کارروائی نہ ہونے سے یارڈ میں مبینہ غیر رسمی نظام مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ محمود بوٹی یارڈ کی یہ صورتحال ڈور ٹو ڈور کلیکشن کے پورے نظام کی کارکردگی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ایک طرف صفائی کا دائرہ کار بڑھانے اور گھر گھر سے کچرا اٹھانے کے اہداف مقرر کیے جا رہے ہیں، تو دوسری طرف فیلڈ میں گاڑیوں، پٹرول اور افرادی قوت کے استعمال کا نظام مبینہ بے ضابطگیوں کی زد میں ہے۔ اگر سرکاری رکشے خراب حالت میں کھڑے رہیں، ان کیلئے ایندھن بھی جاری ہوتا رہے اور ڈرائیوروں سے مبینہ طور پر روزانہ رقم وصول کی جائے تو اس کا براہ راست نقصان صفائی آپریشن، قومی خزانے اور بالآخر شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ متعلقہ اعلیٰ حکام کی ذمہ داری ہے کہ محمود بوٹی یارڈ کے معاملات کی غیر جانبدارانہ انکوائری، پٹرول کے ریکارڈ، رکشوں کی ورکنگ پوزیشن اور ڈرائیوروں سے وصولیوں کی مکمل چھان بین کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
لاہور(خبر نگار) سینئر منیجر محسن صبور نے اپنے موقف میں بتایا کہ اس حوالے سے اگر کوئی معلومات ہیں تو ان کے ساتھ شیئر کی جائیں تو اس پر وہ فوری ایکشن لیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادارے کو صرف کام کرنے والوں لوگوں کی ضرورت ہے جو کام کرے گا وہ رہیگا۔
محمود بوٹی یارڈ میں انتظامی بدنظمی، سرکاری وسائل کا ضیاع، صفائی کا نظام شدید متاثر

















