لاہور (مرزا ندیم بیگ/تصاویر: شاہنواز میاں) ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے کہا ہے کہ لاہور کی موجودہ آبادی اور میگا سٹی کی ضروریات کے پیش نظر جرائم کی روک تھام اور انسداد پولیس کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے تاہم سائنسی بنیادوں، جدید ٹیکنالوجی، موثر تفتیش اور پیشہ وارانہ پولیسنگ کے ذریعے جرائم پر موثر قابو پایا جا سکتا ہے۔ لاہور میں مستقل امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کیلئے لاہور پولیس تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ پولیس افسران اور اہلکاروں کا مورال بلند کرنا، تفتیشی نظام میں بہتری، زیرالتوا مقدمات کا جلد فیصلہ، سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور شہریوں کو بروقت انصاف کی فراہمی ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید کا شمار پنجاب پولیس کے انتہائی پروفیشنل اور کرائم فائٹر افسران میں ہوتا ہے۔ وہ لاہور سمیت پنجاب اور ملک کے مختلف اہم مقامات پر کلیدی عہدوں پر فرائض انجام دے چکے ہیں،لاہور ایک میگا سٹی ہے جہاں آبادی، کاروباری سرگرمیوں اور روزانہ کی بنیاد پر شہریوں کی نقل و حرکت بہت زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں جرائم کی روک تھام اور ان کا موثر انسداد یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہمارا مقصد صرف مقدمہ درج کرنا نہیں بلکہ جرم کے محرکات کو سمجھتے ہوئے جدید اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش کرنا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیٹا بیسز سے مدد لیکر تفتیش کے معیار کو مزید بہتر بنایا جا رہا ہے۔میری اولین ترجیح سنگین جرائم کی تفتیش، زیرالتوا مقدمات کو نمٹانا، اشتہاری اور مطلوب ملزمان کی گرفتاری، مقدمات کی میرٹ پر تفتیش اور شہریوں کو انصاف کی فراہمی ہے۔ افسران اور اہلکاروں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تفتیش میں کسی قسم کی غفلت یا غیرضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔زیرالتوا مقدمات کی مکمل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ہر ڈویڑن اور متعلقہ تفتیشی یونٹ سے مقدمات کی پیش رفت کے بارے میں رپورٹ لی جا رہی ہے۔ ایسے مقدمات جن میں تفتیش مکمل ہونے کے باوجود قانونی کارروائی میں تاخیر ہے، ان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ہمارا ہدف ہے کہ شہریوں کو انصاف کے حصول کیلئے غیرضروری انتظار نہ کرنا پڑے۔سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے تفتیشی افسران کو جدید طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک معاونت، جیو فینسنگ اور دیگر دستیاب تکنیکی ذرائع سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا فوکس صرف ملزم کی گرفتاری نہیں بلکہ مضبوط شواہد کے ساتھ مقدمہ کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے تاکہ عدالت میں بھی کیس مضبوط رہےشہریوں کو انصاف کی فراہمی پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی بھی شہری کو بلاوجہ تھانے کے چکر نہیں لگوانے چاہئیں۔ تفتیش میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کے خلاف اختیارات سے تجاوز، جانبداری یا غفلت کی شکایت سامنے آتی ہے تو اس کا بھی قانون اور محکمانہ قواعد کے مطابق جائزہ لیا جائے گا،ایس ایس پی کے مطابق پولیس ایک مشکل اور دباو¿ والی ڈیوٹی انجام دیتی ہے۔ بہتر کارکردگی کیلئے فورس کا مورال بلند ہونا بہت ضروری ہے۔ افسران اور اہلکاروں کو میرٹ پر کام کرنے، پیشہ وارانہ صلاحیتیں استعمال کرنے اور شہریوں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ جو اہلکار اچھی کارکردگی دکھائیں گے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی۔موجودہ دور میں صرف روایتی پولیسنگ کافی نہیں۔ جدید جرائم سے نمٹنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی تفتیش ناگزیر ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں ڈیٹا بیس، سیف سٹیز ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کو موثر انداز میں استعمال کئے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔تفتیشی افسران کی کارکردگی کی مسلسل مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ مقدمات میں شواہد کے حصول، گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور قانونی تقاضوں کو مکمل کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ کوشش ہے کہ تفتیش میں ایسی خامی باقی نہ رہے جس سے ملزم کو فائدہ پہنچ سکے یا متاثرہ شہری کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں ،ایس ایس پی انویسٹی گیشن کا کہنا تھا کہ لاہور پولیس شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور انہیں انصاف کی فراہمی کیلئے پوری ذمہ داری سے کام کر رہی ہے۔ شہری کسی بھی جرم یا مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع پولیس کو دیں اور تفتیش کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔ پولیس اور عوام کے باہمی تعاون سے ہی جرائم کے خلاف مو¿ثر جنگ جیتی جا سکتی ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں جرائم کی مو¿ثر روک تھام کے ساتھ ساتھ تفتیشی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا موجودہ پولیس قیادت کی اہم ترجیح ہے، جس کیلئے فیلڈ افسران کی کارکردگی کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
بڑھتی آبادی کے پیش نظر جرائم کی روک تھام اور خاتمہ بڑا چیلنج ہے :ایس ایس پی انویسٹی گیشن

















