تہران،ریاض:(مشرق نیوز)ایران نے حوثیوں سے لاتعلقی کااظہار کردیا، وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حملوں یا جنگ کے تسلسل کی بجائے سیاسی رابطوں ،بات چیت کی تجویز دےدی، تجویز پر حتمی فیصلہ دفاعی معاہدکے تحت قائم سٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کرے گی۔
ادھرپاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کےساتھ جنگ سے سبق سیکھتے ہوئے شرائط قبول کرنی چاہئیں،جنگ میں ٹرمپ مقاصد حاصل نہیں کرسکے، امریکہ کو معاشی و سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا،امریکی حکومت کی پہلی ترجیح امریکی عوام نہیں بلکہ اسرائیل ہے،امریکی فوج ایسے ممالک سے جنگ نہیں لڑ سکتی جو پینٹاگون بجٹ کے مقابلے میں 10 فیصد وسائل رکھتے ہوں۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کہاحوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط کی طرف داغے گئے 3 بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی تباہ کر دیا۔
دریں اثناسعودی عرب ،یمن کی فوج نے حوثیوں کیخلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ بنالیا ،غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق منصوبے کے تحت باب المندب کے ارد گرد کے علاقے پر محدود حملے، البیضا،مارب،تعز اور الجوف کے صوبوں میں متعدد محاذوں پر کو آرڈینیٹڈ بڑے حملے کیے جائیں گے،سعودی عرب کی نگرانی میں ایک لاکھ سے زائد یمنی فوجی زمین پر پیش قدمی کریں گے، سعودی فضائیہ حملے کرے گی،کارروائی آنے والے چند ہفتوں میں شروع ہوسکتی ہے۔
ایران کاحوثیوں سے اظہار لاتعلقی ، حملوں کی بجائے سیاسی رابطوں کی تجویز دےدی



















