پشاور:(بیورورپورٹ) وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے گورنر ہاﺅس میں اجلاس آئین،جمہوریت پر حملہ،پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہے۔۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا گورنر کی جانب سے کیا جانےوالا ڈرامہ انتہائی افسوسناک ، قابل مذمت ، خیبرپختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ، صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال ،موجودہ اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے،2تہائی اکثریت والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں گورنر کااجلاس بلانا ناقابل قبول ہے،ملک توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
سہیل آفریدی نے کہااجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائےگی، وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ،عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے،جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کےلئے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کیا، ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وطیرہ،گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا ،ردعمل پر مجبور کرنا ہے،خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشتگردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ، عمران خان ، حکومت نے ہمیشہ خیبرپختونخوا پولیس ،عوام کا ساتھ دیا۔
وزیراعلیٰ کے پی نے کہاحلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی ،سپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کر رہے ہیں، وفاق نے خیبرپختونخوا کےساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا،غلط پالیسیوں کے باعث بے گھر کیے گئے لوگوں کےساتھ کھڑا ہونا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے،وفاق خیبرپختونخوا کےساتھ مخلص ہے تو صوبے کا این ایف سی شیئر اپ گریڈ ، 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دینے والے صوبے کے تقریباً 100ا ارب کے واجبات ادا کرے، 22 سال میں 80 ہزار جانوں کی قربانی کے باوجود امن نہ آنا وفاقی پالیسی کی ناکامی ہے،وفاق سنجیدہ ہے تو دہشتگردی کےخلاف پالیسی تبدیل کرے۔
سہیل آفریدی نے کہاخیبرپختونخوا کے تعاون نہ کرنے کا بہانہ قابل قبول نہیں،پرامن رہیں گے اور صرف آئین و قانون کی بات کریں گے،آئی جی ،چیف سیکرٹری کسی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی حکم پر عمل نہ کریں۔
پی پی کے اقدامات ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش ہے،سہیل آفریدی



















