اسلام آباد:(بیورورپورٹ)پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ،گورنر راج کو یکسر مسترد کردیا۔
اعلامیے میں کہا گیا گورنر راج،ایمرجنسی کا نفاذ عوامی مینڈیٹ پر براہ راست حملہ ،منتخب صوبائی حکومت کو غیر موثر بنانا وفاقی نظام کےلئے سنگین خطرہ ہے،منفی فیصلوں سے سیاسی عدم استحکام، عوامی بے چینی ،وفاق و صوبے کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا، سیاسی اختلافات کا حل طاقت اور جبر کی بجائے آئینی و جمہوری طریقہ کار میں ہے۔
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی نے بلوچستان ،خیبرپختونخوا کی امن و امان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے وفاقی حکومت کے طرزعمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہادہشتگردی ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز ہے تو بلوچستان کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے، بلوچستان میںصورتحال زیادہ سنگین ،ایک ہی آئینی معیار کا اطلاق تمام صوبوں پر یکساں کیوں نہیں کیا جا رہا،ایمرجنسی کا اصل مقصد امن کا قیام نہیں ،پی ٹی آئی حکومت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیاپی ٹی آئی دہشتگردی کی ہر شکل کی غیر مشروط مذمت کرتی اور خاتمے کےلئے پرعزم ہے،وفاقی حکومت کے دباو پر پی ٹی آئی رہنماوں کےخلاف بلاجواز گرفتاریاں کی گئیں ،پولیس کی ذمہ داری آئین کی پاسداری ہے، سیاسی مقاصد کی تکمیل نہیں،عوامی مینڈیٹ ،صوبائی خودمختاری کے تحفظ کےلئے ہر قانونی و آئینی فورم سے رجوع کیا جائےگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ابھی بھی وقت ،فیصلے کو واپس لیا جا سکتا ہے،وفاق انا کو جانے دے، زمینی حقائق کو سمجھے، صوبے میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہیں،انتہائی تشویشناک ،سنگین سیاسی غلطی و غیرجمہوری اقدام ہے،، عوام اپنے حقوق کےخلاف اقدامات کو کبھی قبول نہیں کریں گے،خیبر پختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ آئینی و قانونی حق ہے، مینڈیٹ نظر انداز ، صوبائی خود مختاری کمزور کر کے امن قائم نہیں کیا جا سکتا،وفاق و صوبے کے درمیان تصادم پیدا کر کے استحکام نہیں لایا جا سکتا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا دہشتگردی کے خاتمے پر کوئی اختلاف نہیں، دہشت گردی کا مقابلہ قومی یکجہتی ، مشترکہ حکمت عملی سے ہی ممکن ہے،صوبوں کو کمزور کر کے وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، مسائل کا حل طاقت، تصادم، غیرمعمولی اقدامات نہیں سیاسی بصیرت ،بامعنی مذاکرات میں ہے۔
گورنر راج،ایمرجنسی عوامی مینڈیٹ پر براہ راست حملہ ہے،پی ٹی آئی



















