لاہور (مرزا ندیم بیگ) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پنجاب پولیس کی نفری وہاں تعینات کرنے سے متعلق اطلاعات نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں پولیس اہلکاروں کی دستیابی، جرائم پر قابو پانے اور امن و امان برقرار رکھنے کے انتظامات کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں اہلکاروں کی دوسرے صوبے میں تعیناتی کے معاملے پر پولیس کے انتظامی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے تاحال کسی حتمی تعداد یا تعیناتی کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا گیا۔ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں احتجاجی سرگرمیوں کے تناظر میں تعینات پنجاب پولیس کے 40 ہزار اہلکاروں میں سے 25 ہزار کو خیبر پختونخوا منتقل کئے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا تاہم آئی جی پنجاب عبدالکریم نے واضح کیا ہے کہ نفری کی خیبر پختونخوا منتقلی کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی باضابطہ حکم جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نفری کی منتقلی کا فیصلہ ہوا تو اس بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی ممکنہ منتقلی کے حوالے سے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ہزاروں اہلکار صوبے سے باہر تعینات کئے جاتے ہیں تو لاہور سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں روزمرہ پولیسنگ، جرائم کی روک تھام، ڈکیتی و راہزنی کے واقعات پر قابو پانے، تھانوں میں نفری کی دستیابی، گشت اور حساس مقامات کی سکیورٹی کے انتظامات کس طرح برقرار رکھے جائیں گے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب پولیس کو معمول کی ڈیوٹی کے ساتھ احتجاجی سرگرمیوں، اہم شخصیات کی سکیورٹی اور دیگر ہنگامی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑتی ہیں، نفری کی مناسب تقسیم انتہائی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔محکمہ پولیس سے اس حوالے سے تفصیلات حاصل کرنے کی ضرورت ہے کہ پنجاب پولیس کی مجموعی منظور شدہ اور موجودہ دستیاب نفری کتنی ہے، کتنے اہلکار پہلے ہی مختلف اضلاع سے دوسرے مقامات پر تعینات ہیں، کتنی نفری احتجاجی ڈیوٹی اور سکیورٹی ذمہ داریوں پر مامور ہے اور خیبر پختونخوا میں ممکنہ تعیناتی کیلئے کن اضلاع سے اہلکار طلب کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح ہونا ضروری ہے کہ مجوزہ تعیناتی مستقل نوعیت کی ہو گی یا عارضی، اس کی مدت کتنی ہو گی اور اہلکاروں کی واپسی کیلئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔لاہور پولیس کے حوالے سے بھی یہ سوال اہم ہے کہ اگر صوبے کی نفری کا بڑا حصہ بیرونِ صوبہ تعینات ہوتا ہے تو تھانوں، انویسٹی گیشن ونگ، ڈولفن فورس، پولیس ریسپانس یونٹس اور دیگر آپریشنل شعبوں کی کارکردگی متاثر ہونے سے بچانے کیلئے کیا متبادل انتظامات کیے جائیں گے۔ اسی طرح پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہی اضلاع میں پولیس گشت، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں اور ہنگامی حالات میں فوری رسپانس کی صلاحیت برقرار رکھنے کیلئے دستیاب وسائل کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔دوسری جانب خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت نے فوج کو سول انتظامیہ کی معاونت کیلئے تعینات کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ اس تناظر میں پنجاب پولیس کی ممکنہ تعیناتی کی ضرورت، اس کے دائرہ کار اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ذمہ داریوں کی تقسیم کی وضاحت بھی اہم ہو گی۔
پنجاب پولیس کی KP میں تعیناتی اطلاعات، صوبہ میں اہلکاروں کی کمی جرائم پر کنٹرول، امن و امان کیلئے خطرے کی گھنٹی



















