شالامار زون، حکومتی دعوے فائلوں تک محدود، تجاوزات لگانے کیلئے روزانہ وصولی

لاہور (خبرنگار) شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے کے حکومتی دعوے اب لاہور کی سڑکوں پر نہیں بلکہ شالامار زون کے دفتر میں سجنے والی مبینہ بھتہ منڈیوں کی نذر ہو چکے ہیں جہاں وزیراعلیٰ کی پالیسیوں کو ہوا میں اڑا کر تجاوزات کے بدلے روزانہ ہزاروں روپے کی وصولیاں کی جا رہی ہیں۔ ایک طرف شہر کے باقی حصوں میں کارروائیوں کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے تو دوسری طرف سنگھ پورہ سبزی و فروٹ منڈی کے اطراف میں تجاوزات پر انتظامیہ نے جان بوجھ کر آنکھیں بند کر رکھی ہیں کیونکہ یہاں سے آنے والی مبینہ موٹی رشوت نے بلدیاتی مافیا کے منہ کو خون لگا رکھا ہے۔میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کا ریگولیشن نظام اب قانون کی بالادستی کا نہیں بلکہ تجاوزات کو تحفظ دے کر اپنی تجوریاں بھرنے کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے اور انتظامیہ اپنے اس مالی فائدے کا معمولی سا نقصان بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ذرائع سے سامنے آنے والے انتہائی سنسنی خیز اور ہوشربا انکشافات کے مطابق شالامار زون کا یہ مکروہ کھیل ایک منظم نیٹ ورک کے تحت کھیلا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سنگھ پورہ سبزی و فروٹ منڈی سمیت پورے زون میں رشوت کا یہ گندا بازار متعدد تحصیلوں کے انچارج آپریشن کے شالامار میں تعینات کارِ خاص شیراز نامی اہلکار کے ذریعے چلایا جا رہا ہے، جو مبینہ طور پر یہ بھتہ اور منتھلیاں عرفان کے ذریعے اکھٹی کرواتا ہے۔ سب سے زیادہ شرمناک بات یہ ہے کہ اس تمام تر غیر قانونی سرگرمی کی پشت پناہی کا گمان خود اعلیٰ افسران کی موجودگی سے ہوتا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دن بھر سنگھ پورہ منڈی اور دیگر علاقوں سے لوٹا جانے والا یہ کالا دھن رات گئے شالامار زون کے دفتر لایا جاتا ہے، جہاں مبینہ طور پر اس ناجائز کمائی کی بندر بانٹ کی جاتی ہے۔ دفاتر میں رات گئے تک متعلقہ افسران کا بیٹھنا اور اسی دوران بھتے کی رقم کی ”ونڈیاں“ پڑنا ایم سی ایل کے پورے نظام کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ ہے جو اس ادارے کی بدترین کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔