اسلام آباد:(بیورورپورٹ)تحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مذاکرات ختم، خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ،گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا گورنر راج ،ایمرجنسی کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے،میں خود، اختر مینگل سمیت 3 لوگ سینئر شہری کی حیثیت سے پشاور جائیں گے اور حکومتی اقدام چیلنج کیاجائےگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہااپوزیشن کے 56 اراکین کی جانب سے ایمرجنسی ،گورنر راج کی بھرپور مخالفت کی گئی، غیرآئینی ،غیر قانونی طریقے سے حکومت ختم کرنے کی مذمت کرتے ہیں،صوبے یا پی ٹی آئی نہیں وفاق کا معاملہ ،وقت ثابت کرے گا غلط فیصلہ تھا، آپ کے کچھ لوگ نہیں چاہتے تھے مذاکرات کامیاب ہوں کیونکہ وہ حکومت گرانا چاہتے تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا آپ نے وزیر اعلیٰ، سپیکر ،اراکین کو گرفتار کیا، کیا آئین کے تحت ایمرجنسی تھی یا ماورائے آئین ایمرجنسی ،ایک حکومتی ٹولہ چاہتا تھا مذاکرات کامیاب نہ ہوں، وزیر اعظم خود فیصلہ کریں۔
دریں اثناتحریک تحفظ آئین پاکستان نے حکومت سے مذاکرات ختم کردئیے،اعلامیے کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا سربراہی اجلاس محمود خان اچکزئی کی زیر صدارت ہوا، علامہ راجہ ناصر عباس، اختر مینگل ، بیرسٹر گوہر نے ،سلمان اکرم راجہ، صاحبزادہ حسن رضا، سید زین شاہ اور مشتاق احمد خان نے شرکت کی،حکومت سے ہر قسم کے مذاکرات بند کرنے کا فیصلہ ،موجودہ سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔
حکومت سے مذاکرات ختم،ایمرجنسی ،گورنر راج کو چیلنج کریں گے،اپوزیشن اتحاد



















