یونین کونسلوں میں انتظامی بحران کے خاتمے کیلئے سیکرٹریز، ماتحت عملے کی بھرتیوں کا فیصلہ

لاہور (نوید چودھری) نئے بلدیاتی ایکٹ کے تحت صوبے بھر میں یونین کونسلوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے باعث پیدا ہونے والے انتظامی بحران کو ختم کرنے کیلئے بالآخر یونین کونسل سیکرٹریز اور ماتحت عملے کی بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے تاکہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ صوبے کی ساڑھے 6 ہزار کے قریب یونین کونسلوں میں عملے کی شدید قلت کو دور کرنے کیلئے دو ہزار کے قریب ملازمین کی نئی بھرتیوں کا یہ عمل شروع کیا جا رہا ہے جن میں ایک ہزار کے قریب یونین کونسل سیکرٹریز اور 900 سے زائد ماتحت سٹاف شامل ہوگا۔ نئے بلدیاتی ایکٹ کے نفاذ سے قبل صوبے میں یونین کونسلوں کی تعداد 4,015 کے قریب تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے چھ ہزار سے زائد ہو چکی ہے، جن میں دیہی علاقوں میں چار ہزار کے قریب اور شہری علاقوں میں پچیس سو سے زائد یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں، جبکہ صرف لاہور میں یو سیز کی تعداد 274 سے بڑھ کر 433 ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے بعد سے بھرتیوں پر پابندی کے باعث ایک ایک سیکرٹری کے پاس چھ سے سات یونین کونسلوں کا اضافی چارج ہونے کی وجہ سے پیدائش، اموات اور نکاح کے سرٹیفکیٹس کا نظام شدید متاثر ہو رہا تھا اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس دیرینہ بحران پر قابو پانے کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی سمری پر یونین کونسل سیکرٹریز کی 1000 کے قریب نئی بھرتیوں کی منظوری دیدی ہے جو کہ گریڈ 14 کے مطابق یکمشت تنخواہ کی بنیاد پر ہوں گی اور مذکورہ بھرتی این ٹی ایس کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ اس بھرتی کیلئے نئے یونین کونسل ایمپلائز سروس رولز باقاعدہ منظور کیے گئے ہیں جن کے تحت نئی بھرتی مستقل کے بجائے یکمشت تنخواہ پر کنٹریکٹ پر ہوگی اور نئے ملازمین کو پنشن اور گریجویٹی کی سہولت نہیں ملے گی جبکہ اس کیلئے تعلیمی قابلیت کو میٹرک سے بڑھ کر گریجویشن کر دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ماتحت سٹاف کیلئے بھی 900 سے زائد نئی آسامیاں پ±ر کی جائیں گی، جبکہ روایتی خاکروب، مالی اور چوکیدار کی آسامیوں کو ختم قرار دیکر صفائی کا تمام تر نظام ستھرا پنجاب اتھارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ محکموں سے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ان تمام مذکورہ بھرتیوں کا عمل مکمل ہونے میں 4 سے 5 ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔