جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کا سکینڈل بے نقاب، کاپی برانچوں میں سالانہ کروڑوں کی جعلسازی

لاہور (میاں ذیشان) صوبائی دارلحکومت لاہور میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کا بڑا سکینڈل بے نقاب، سیشن اور سول کورٹس کی کاپی برانچوں میں کروڑوں روپے سالانہ کی مبینہ جعلسازی کا انکشاف، سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزام میں عدالتی اہلکاروں، اشٹام فروشوں اور پرنٹنگ پریس مالک سمیت متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج، اینٹی کرپشن نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔تفصیلات کے مطابق ضلع لاہور کی سیشن کورٹس اور سول کورٹس میں زیر سماعت اور فیصلہ شدہ مقدمات کی مصدقہ نقول حاصل کرنے کیلئے استعمال ہونے والی کورٹ فیس ٹکٹوں میں بڑے پیمانے پر جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے جہاں مبینہ طور پر ٹریژری برانچ لاہور سے جاری ہونے کے بجائے جعلی اور فرضی کورٹ فیس ٹکٹیں سرکاری نمونے کے مطابق نجی پرنٹنگ پریسوں میں تیار کرکے عدالتی کاپی برانچوں میں استعمال کی جا رہی تھیں۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ لاہور ریجن اے کو موصول ہونے والی سورس رپورٹ کے مطابق اس مبینہ فراڈ میں کاپی برانچوں کے بعض کلریکل اہلکاروں، اشٹام فروشوں، نجی افراد اور پرنٹنگ پریس مالکان پر مشتمل ایک منظم گروہ سرگرم تھا، جو اپنی پرنٹنگ مشینوں کے ذریعے سرکاری نمونے سے مشابہ جعلی ٹکٹیں تیار کرکے سستے داموں فروخت کرتا اور مبینہ طور پر عدالتی نقول کے حصول کیلئے ان کا استعمال کرواتا تھا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس طریقہ واردات کے ذریعے سرکاری خزانے کو طویل عرصے سے سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا تھا۔ مبینہ جعلسازی کا دائرہ سیشن کورٹ لاہور، سمال کاز کورٹس، سول کورٹس، ڈسٹرکٹ کورٹس، ماڈل ٹاﺅن کورٹس اور کینٹ کورٹس کی کاپی برانچوں تک پھیلا ہوا بتایا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن کی جانب سے درج مقدمے میں زمان اللہ انچارج کاپی برانچ سول کورٹ لاہور، اعجاز احمد ریکارڈ کیپر ماڈل ٹاﺅن کورٹ لاہور، مہر بابر علی، کاشف پنوں، مزمل، وارث علی، شہروز، صابر سلیم، محمد عمر، طیب علی اور محمد ندیم مالک پرنٹنگ پریس کے نام شامل کیے گئے ہیں، جبکہ محمد یامین اشٹام فروش سمیت دیگر اشٹام فروشوں اور نجی افراد کے کردار کا تعین بھی تفتیش میں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ درخواست گزار محسن رضا، اسسٹنٹ سب انسپکٹر اینٹی کرپشن لاہور ریجن اے کی رپورٹ پر تھانہ اینٹی کرپشن میں ابتدائی اطلاعی رپورٹ درج کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان کی دفعات 409، 420، 467، 468، 471 اور 109 سمیت انسداد بدعنوانی کے قانون کی دفعہ 5(2)47 شامل کی گئی ہے۔ مقدمے کی مزید تفتیش کیلئے مجاز اتھارٹی نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیکر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور سرکل آفیسر ہیڈکوارٹرز کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیشن کورٹ، سمال کاز کورٹ، سول کورٹ، ڈسٹرکٹ کورٹ، ماڈل ٹاﺅن کورٹ اور کینٹ کورٹ کی کاپی برانچوں کے متعلقہ اہلکاروں، اشٹام فروشوں، جعلی ٹکٹیں چھاپنے والے پرنٹنگ پریس مالکان اور دیگر نجی افراد کے کردار کا تعین کیا جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ جعلی کورٹ فیس ٹکٹوں کی تیاری، خریدوفروخت اور عدالتی برانچوں میں استعمال کا مبینہ نیٹ ورک کس طرح کام کرتا رہا۔ تفتیش میں یہ پہلو بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ جعلی ٹکٹوں کے ذریعے سرکاری خزانے کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کا تخمینہ کتنا ہے، یہ سلسلہ کتنے عرصے سے جاری تھا اور اس مبینہ دھندے میں کون کون سے افراد سہولت کاری کرتے رہے۔ اینٹی کرپشن کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ذمہ داروں اور جعلسازی کے اصل حجم کے بارے میں حتمی حقائق سامنے آ سکیں گے۔