پاکستان کا پیسہ 4 صوبوں کے بجائے 20 لوگوں میں بٹتا ہے: وفاقی وزیر صحت

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پیسہ چار صوبوں کے بجائے 20 لوگوں میں بٹتا ہے۔ انٹرنیشنل ٹریولرز ویکسی نیشن سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے بولیں یا انتظامی یونٹ ایم کیو ایم اپنے موقف پر قائم ہے، ایم کیو ایم نے اپنے موقف کو تبدیل نہیں کیا ہے۔

مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ سندھ میں 18 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، کراچی سے کشمور تک 80 فیصد لوگوں کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم تیسری جنگ عظیم رکوا رہے ہیں اور دوسری طرف کتے کے کاٹنے سے بچے مر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم میں اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے کی ترمیم تھی، بھٹو کے بنائے گئے 1973 کے آئین میں نئے صوبوں کی گنجائش موجود ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 28 ویں ترمیم پر ہم سے اب تک کوئی گفتگو نہیں ہوئی، میں غلط بات پر غصہ ضرور کروں گا یہی میری خاصیت ہے، میری کرپشن کا کوئی کیس سامنے کیوں نہیں لاتے۔

انکا کہنا ہے کہ ملک سے باہر سے آنے والے اور جانے والے افراد حفاظتی ٹیکے لگوائیں، گردن توڑ بخار کی ویکسین کا سرٹیفکیٹ مسافروں کے پاس ہونا چاہیے، حج اور عمرہ پر جانے والوں کیلئے یہ سرٹیفکیٹ ضروری ہے۔ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ٹریولرز ویکسی نیشن سینٹر میں بین الاقوامی مسافروں کو ویکسی نیشن کی سہولت ملے گی، ان کی انٹری نادرا کے ڈیٹا بیس میں ریکارڈ ہو گی،بہت سارے لوگ علاج معالجے کیلئے بھی سفر کرتے ہیں، جو بھی پرواز سے آئے گا ہیلتھ ڈیسک کے پاس اس کا ڈیٹا رکھ رہے ہیں۔