قادیانی ملک دشمن سرگرمیوں سے باز آجائیں، علماءکرام کی وارننگ

لاہور(اپنے نمائندے سے) یوم ختم نبوت 1974 کی یاد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام سالانہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس وحدت روڈ کرکٹ گراونڈ میں مجلس کے مرکزی امیر مولانا پیرحافظ ناصر الدین خان خاکوانی،خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین مولانا خواجہ خلیل احمد کی صدارت، زیرنگرانی امیر مجلس لاہور مولانا مفتی محمدحسن منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں جے یوآئی کے سربراہ مولانافضل الرحمن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا ، جامعہ اشرفیہ کے شیخ الحدیث مولانا یوسف خان، جامعہ اشرفیہ کے نائب مہتمم مولانا حافظ اسعد عبید نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ ، چیئر مین قرآن بورڈ مولانا زبیرحسن، مرکزی جمعیت علماءاسلام کے سربراہ مولانا ڈاکٹر میاں اجمل قادری ، جے یو آئی کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل، امیر صوبہ پنجاب مولانا امجد خان ، متحدہ جمعیت اہلحدیث مرکزی رہنما مولانا سید ضیاءاللہ شاہ بخاری، خانقاہ سعدیہ سراجیہ لورالائی کے سجادہ نشین مولانا محب اللہ نبی ، ممبر اسلامی نظریاتی کونسل حافظ امجد، مولانا پیرسیف اللہ نقشبندی ، ، مجلس کے مرکزی رہنما مولانا عزیز الرحمن ثانی، امیر جے یو آئی لاہور شیخ الحدیث مولانا محب لنبی، پیررضوان نفیس، مولانا اشرف گجر ، مبلغ مجلس لاہور مولاعبدالنعیم جنرل سیکرٹر ی لاہور مولاناعلیم الدین شاکر،مولانا صوفی اکرم ،مولانا خالد محمود ، معروف نعت خوان حافظ ابوبکر کراچی،مولانا شاہدعمران عارفی، مولانا فقیراللہ اختر ، مولانا سید عبداللہ شاہ، مولانا خالد عابد، مولانا محمدخان، مولانا شرافت ،مولانا عرفان بزیزی ، مولانا سمیع اللہ ودیگر علماءنے خطابات کئے اور شعور ختم نبوت کو اجاگر کیا اور شہدائے ختم نبوت اور پاکستان کی پارلیمنٹ کے تاریخی فیصلے کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کے پیش نظر انہوں نے خبردار کیا کہ وہ اپنی شر انگیز یوں سے باز رہیں یہ انکے اور ملک کے مفاد میں بہتر ہوگا۔ 7 ستمبر یوم الفتح، قادیانیت کو غیر مسلم قرار دینا اکابر کی قربانیوں کا ثمر تھا۔ سربراہ جمعیت علماءاسلام مولانا فضل الرحمن نے ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7 ستمبر 1974ءکو قادیانیت کو مسلمانوں کی فہرست سے نکال کر غیر مسلم اقلیت قرار دینا معمولی معرکہ نہیں تھا، یہ ہمارے اکابر کی قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ تھا، آج بھی پوری قوم پارلیمنٹ کے اس تاریخی فیصلے کے ساتھ کھڑی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 6 ستمبر یومِ دفاع اور 7 ستمبر یومِ الفتح ہے۔ 6 ستمبر ہماری جغرافیائی حدود کے تحفظ جبکہ 7 ستمبر نظریاتی حدود کے تحفظ کی علامت ہے۔ ہمیں پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی دونوں سرحدوں کے تحفظ کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔انہوں نے ملک میں صوبوں کی تقسیم کی بحث پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور تم صوبوں کی تقسیم کی بات کررہے ہو، جو بھائی گھر جلتا دیکھے اور اسے تقسیم کرنے کی بات کرے اس سے زیادہ بیوقوف کوئی نہیں ہوسکتا۔ عوام ہیں تو ریاست ہے، عوام کے بغیر ریاست کا کوئی تصور نہیں۔ صوبے بنتے رہتے ہیں لیکن وقت اور حالات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پاکستان کو ایک عادلانہ نظام کی ضرورت ہے، آمریت اور غیر جمہوری فیصلوں نے ملک کو سیاسی، نظریاتی اور اقتصادی طور پر کمزور کیا۔ ڈکٹیٹروں کے فیصلوں کے نتیجے میں ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا اور بالآخر پاکستان دولخت ہوا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت، قومیت، علاقائیت اور لسانیت کو فروغ دیا گیا، نفرتیں پھیلائی گئیں جس سے بیرونی قوتوں کو پاکستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملا۔ اقتصادی طور پر بھی ملک کو عالمی مالیاتی اداروں کا پابند بنا دیا گیا ہے اور ہمارے معاشی فیصلوں پر بیرونی اداروں کا اثر بڑھتا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ریاست ماں ہوتی ہے جو قوم کو جوڑتی ہے، لیکن آج ریاست تقسیم در تقسیم کی طرف جارہی ہے اور لڑا¶ اور حکومت کرو کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جابرانہ سیاست اور طاقت کے زور پر عوام پر حکمرانی کا سلسلہ مزید نہیں چل سکتا۔انہوں نے دینی مدارس کے حوالے سے کہا کہ ایک وقت میں مدارس کی تنظیموں کی تعداد پر اعتراض کیا جاتا تھا، مگر آج مزید تقسیم پیدا کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روشن خیال مغرب کے پسندیدہ عناصر نے ماضی میں ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قانون کے خلاف بھی آوازیں بلند کیں۔سربراہ جے یو آئی نے واضح کیا کہ اگر اس ملک میں مسلمان قادیانیت کے فتنے کو قبول نہیں کرتے تو کسی کو بھی مسلمانوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ طاقت کی بنیاد پر مسلط ہونے والی سیاست نہیں چلے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے عوام ہیں، ملک کو امن، مضبوط معیشت، عادلانہ نظام اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں قوم کو مزید تقسیم کرنے کے بجائے اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔۔ملک بھر علماءکرام نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا مقررین نے کہا کہ قادےانی ملک اور اسلام دونوں کے غدار ہیں۔7ستمبر کا دن ایک تاریخ ساز دن ہے کیونکہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کر کے قادےانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دیاتھا۔یہ فیصلہ در اصل اسلامیان پاکستان کی کوششوں کا ثمر ہے۔ہزاروں عاشقان مصطفےٰ نے جذبہ عشق سے سرشار ہوکر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیاتھا۔ کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنےادی عقیدہ اور شریعت محمدی کی اساس اوربنےاد ہے۔دین اسلام اللہ کا آخری دین ہے اور یہی دین مدار نجات ہے۔علماءکرام نے کہا کہ قادےانی ختم نبوت کی انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ختم نبوت کا تحفظ در اصل آپ کی ذات اقدس کا تحفظ ہے۔۷ستمبر کا دن عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے یوم فتح مبین ہے،یہ دن عاشقان رسول ،ختم نبوت کے پروانوں کیلئے عظیم الشان کامرانی اور تحفظ ختم نبوت کے حوالے سے تجدید عہد کا دن ہے۔علماءکرام نے کہا کہ آج ایک مرتبہ پھر ختم نبوت اور قادےانیت کے متعلق قوانین اور ناموس رسالت کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ۔ان اسلام دشمن قوتوں کی اس سازش کو کامےاب نہیں ہونے دیں گے۔عقیدہ ختم نبوت وناموس رسالت کی حفاظت کرنے میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔علماءکرام نے ۴۷۹۱ کی تحریک میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں ،حزب اقتدار، حزب اختلاف اور تمام دینی قوتوں کے اس دلیرانہ فیصلے پرخراج تحسین پیش کیا۔علماءکرام نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قادےانیوں کو آئین وقانون اور پاکستان کی نیشنل اسمبلی کے فیصلے کا پابند بنائے اور ان کی غیر قانونی سرگرمیوں کانوٹس لے نوجوان نسل کو مثبت حکمت، دانائی سے بھرپور علمی اور تبلیغی انداز میں یہ سب بتانے کی ضرورت اور آگاہ کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ تمام مسلمان بالخصوص علمائے کرام اور مساجد کے ائمہ اور خطبائے عظام کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے کہ مسلم عوام کو عقیدئہ ختم نبوت کی اہمیت، ضرورت کے بارے میں آگاہ کریں۔ عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کے بارے میں بیدار کریں اور قادیانیوں کے فتنے سے ان کو روشناس کریں ۔ بین الا قوامی سازش کے تحت پاکستان میں قادیانیوں کو پرو موٹ کیا جا رہا ہے جو ملک وملت کے لئے زہر قاتل ہے،کستان و اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کر نا قادیانیوں کا وطیرہ ہے دستور پاکستان میں قا دیانی و لا ہو ری گروپ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ ہے جو بحث کے بعد متفقہ طور پر منظور کیا گیاعلماءنے اس بات کا عہد کیا کہ ناموس رسالت قانون کے خلاف سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔295-Cناموس رسالت ایکٹ کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے کہاکہ قادیانی اور یہودی لابی اسلام مخالف قوتوں کو ساتھ ملاکر تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ختم کرانے کے در پے ہیں مگر شمع ختم نبوت کے پروانے کوئی بھی ایسی ناپاک ساز ش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔