لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر علی حسام اصغر نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کیلئے فنانسنگ میں نمایاں اضافہ کرنے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کاروباری شعبے کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ جون 2028 تک ایس ایم ای فنانسنگ کا ہدف 2 ٹریلین مقرر کرنا حکومت کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی اہمیت کو تسلیم کرنے کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور روزگار، کاروباری سرگرمیوں، صنعتی و تجارتی ترقی اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے SME فنانسنگ تک رسائی بڑھانے پر خصوصی توجہ کاروباری برادری کیلئے حوصلہ افزا ہے۔ سستی، بروقت اور آسان فنانسنگ کی دستیابی سے چھوٹے کاروبار اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے، کاروبار کو وسعت دینے اور مزید روزگار پیدا کرنے کے قابل ہوں گے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ حکومت نے جون 2028 تک SME فنانسنگ کے حجم کو Rs2 ٹریلین جبکہ ممکنہ قرض لینے والے SMEs کی تعداد کو 775,000 تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جو مالیاتی شمولیت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2026 میں SME فنانسنگ 1.114 ٹریلین تھی جو ستمبر 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 1.137 ٹریلین سے تجاوز کر گئی، جبکہ SME قرض لینے والوں کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 350,862 ہوگئی۔ انہوں نے اس پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس رفتار کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ SME فنانسنگ کا ہدف حاصل کرنے کیلئے حکومت، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، کمرشل بینکوں، مائیکروفنانس اداروں، SMEDA اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط رابطہ اور م¶ثر حکمت عملی ضروری ہے۔ فنانسنگ کے طریقہ کار کو آسان، تیز اور کاروبار دوست بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے چھوٹے کاروبار بہترین صلاحیت رکھنے کے باوجود دستاویزات، مالیاتی آگاہی اور دیگر ضابطہ جاتی رکاوٹوں کے باعث رسمی قرضوں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کاروباری برادری کو اعتماد میں لے کر عملی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔ علی حسام اصغر نے مالیاتی ادار پر زور دیا کہ SMEs کی ضروریات کے مطابق آسان اور لچکدار فنانسنگ مصنوعات متعارف کرائی جائیں، خصوصاً چھوٹے کاروباروں اور اسٹارٹ اپس کیلئے، تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری ادارے رسمی مالیاتی نظام کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے زراعت اور ہا¶سنگ سمیت دیگر پیداواری شعبوں کیلئے فنانسنگ بڑھانے کے حکومتی اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا کہ ان شعبوں میں سرمایہ کاری اور فنانسنگ بڑھنے سے معیشت کے مختلف شعبوں میں مثبت سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ زرعی فنانسنگ میں اضافہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنانے اور زرعی معیشت کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوگا، جبکہ ہا¶سنگ فنانسنگ میں اضافہ تعمیراتی صنعت اور اس سے وابستہ متعدد شعبوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کی جانب سے حکومت کے معاشی اقدامات اور کاروباری شعبے کیلئے پالیسی اقدامات کو م¶ثر انداز میں اجاگر کرنے کی کوششوں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیوں اور فنانسنگ پروگرامز کے بارے میں کاروباری برادری کو بروقت آگاہی فراہم کرنا اعتماد سازی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ کاروباری برادری حکومت کے ساتھ مل کر SME فنانسنگ کے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیمبرز آف کامرس کاروباری اداروں کی مالی ضروریات کی نشاندہی اور انہیں دستیاب فنانسنگ سہولیات سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ SME فنانسنگ میں اضافے کا یہ اقدام موثر انداز میں آگے بڑھایا گیا تو اس سے سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد مزید مضبوط ہوگی۔
وزیراعظم کی طرف سے ایس ایم ای فنانسنگ میں نمایاں اضافہ خوش آئند ہے :صدر لاہور چیمبر



















