غلط انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

لاہور (نعیم جاوید) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس گوشواروں میں غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کرنے، اثاثے چھپانے اور مالی ریکارڈ میں ردوبدل کرنے والے ٹیکس دہندگان کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گوشواروں کی جانچ پڑتال کیلئے خودکار نظام اور مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے گی جبکہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی پر متعلقہ قوانین کے تحت جرمانے، اضافی ٹیکس کی وصولی اور سنگین نوعیت کے معاملات میں فوجداری کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ ٹیکس دہندگان کو 15 اکتوبر 2026ءتک گوشواروں میں غلطیوں کی اصلاح کا موقع دیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے ایف بی آر سے متعلق 12 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکام دستیاب معلومات کی بنیاد پر ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ آمدن اور اثاثوں کا ادارے کے ریکارڈ سے موازنہ کریں گے۔ اس عمل میں جائیدادوں اور دیگر مالی معلومات کے ذریعے ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ تاہم غلطی یا فرق سامنے آنے کا مطلب خودبخود ٹیکس چوری ثابت ہونا نہیں، بلکہ معاملے کی نوعیت کے مطابق وضاحت اور قانونی کارروائی ضروری ہوگی ایف بی آر کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 30 ستمبر 2026ءکو ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں 9 ارب 41 کروڑ روپے کے غیر ظاہر شدہ اثاثوں سے متعلق فراڈ سامنے آنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ادارے کے مطابق 85 ٹیکس دہندگان نے مارچ 2025ءسے جون 2026ءکے دوران ٹیکس سال 2014ءسے 2019ءکی پرانی ویلتھ اسٹیٹمنٹس میں غیر قانونی ترامیم کرکے نقد رقم، سونا، پرائز بانڈز، جائیدادیں اور کاروباری سرمایہ ظاہر کیا تھاایف بی آر کے مطابق ان ترامیم کے ذریعے غیر واضح اثاثوں کو ظاہر شدہ دولت میں شامل کیا گیا، حالانکہ متعلقہ قانونی مدت گزرنے کے بعد ایسی ترامیم کی اجازت نہیں تھی۔ لاہور ریجن کے ایک کیس میں ٹیکس دہندہ نے ٹیکس سال 2015ءکی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں 10 کروڑ 28 لاکھ روپے کے فرضی فنڈز شامل کیے اور بعدازاں اس رقم کو اگلے برسوں کے گوشواروں میں منتقل کرتے ہوئے مئی اور جون 2026ءمیں خریدی گئی سات جائیدادوں کیلئے استعمال کیا۔ ان جائیدادوں کی مالیت 6 کروڑ 44 لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے، جبکہ اس ایک کیس میں مبینہ ٹیکس چوری 4 کروڑ 60 لاکھ روپے سے زیادہ ہے ایف بی آر کی پریس ریلیز کے مطابق اس معاملے میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010ءکے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جبکہ ملک بھر میں 48 فوجداری انکوائریاں شروع کی گئیں اور دیگر کیسز میں کارروائی جاری تھی۔ ادارے نے واضح کیا کہ ڈیٹا اینالیٹکس کے ذریعے ایسے معاملات کی نشاندہی اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ئ کی دفعہ 182 میں مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب متن کے مطابق غلط یا گمراہ کن بیان دینے پر 25 ہزار روپے یا ٹیکس شارٹ فال کے 100 فیصد کے برابر جرمانہ، جو زیادہ ہو، عائد کیا جا سکتا ہے۔ آمدن چھپانے یا آمدن کی غلط تفصیلات دینے کے بعض معاملات میں ایک لاکھ روپے یا مبینہ طور پر بچائے جانے والے ٹیکس کے برابر جرمانے کی گنجائش بھی موجود ہے۔ تاہم ہر کیس میں متعلقہ شق، قانونی شرائط اور حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گادوسری جانب ذرائع سے منسوب میڈیا رپورٹس میں تنخواہ دار افراد کیلئے تنخواہ کے 75 فیصد تک جرمانے اور جرمانہ مقررہ مدت میں ادا نہ کرنے پر روزانہ ایک ہزار روپے اضافی جرمانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان مخصوص شرحوں کا اطلاق متعلقہ قانونی شق اور ایف بی آر کے باضابطہ حکم سے تصدیق کے بعد ہی حتمی طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔