سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، سرمایہ کاروں میں تشویش، اربوں کے نقصان کا خدشہ

لاہور (نعیم جاوید) پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جاری شدید مندی نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا، جبکہ سیاسی بے یقینی، مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورت حال، عالمی منڈی میں خام تیل کی بلند قیمتوں اور شرح سود سے متعلق خدشات نے حصص کی خریدوفروخت کو دباو میں لے لیا ہے۔ لاہور کے بروکریج ہاوسز اور مقامی سرمایہ کار بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے حجم میں نمایاں کمی اور فروخت کے بڑھتے رجحان نے کاروباری حلقوں کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے کے ایس ای 100 انڈیکس میں 5 اکتوبر کو 2,288.17 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں بھی مندی کا رجحان برقرار رہا۔ 6 اکتوبر کو انڈیکس 166,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ مارکیٹ میں مسلسل اتار چڑھاو کے باعث سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم لاہور کے سرمایہ کاروں کے مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ لگانے کیلئے مقامی بروکریج ہاوسز کے مستند اعدادوشمار درکار ہیںمارکیٹ میں مندی کے اس رجحان کے پیچھے ملکی سیاسی صورت حال اور عالمی معاشی حالات دونوں کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات، سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق غیر یقینی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات نے پاکستان کے درآمدی اخراجات، مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیںمعاشی تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل مہنگا ہونے کی صورت میں پاکستان کے درآمدی بل پر دباو بڑھ سکتا ہے، جس سے روپے کی قدر، مہنگائی اور صنعتی پیداواری لاگت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ بالخصوص سیمنٹ، ٹیکسٹائل، اسٹیل اور دیگر توانائی استعمال کرنے والے شعبوں کے منافع پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح شرح سود میں اضافے کے خدشات بھی حصص کی قیمتوں پر دباو ڈال سکتے ہیں، کیونکہ بلند شرح سود کاروباری اداروں کے قرضوں کی لاگت بڑھانے کے ساتھ سرمایہ کاری کے متبادل ذرائع کو زیادہ پرکشش بنا سکتی ہے مندی کے دوران مارکیٹ میں فروخت کا دباو بڑھنے اور خریداروں کی دلچسپی کم ہونے سے کاروباری حجم بھی متاثر ہوا ہے۔ دستیاب رپورٹ شدہ اعدادوشمار کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورت حال سے قبل یومیہ کاروباری حجم تقریباً 1.3 ارب حصص بتایا گیا تھا، جو حالیہ عرصے میں کم ہو کر تقریباً 427 ملین حصص تک آ گیا۔ اگر ان اعدادوشمار کی مدت اور پیمانے یکساں ہوں تو یہ کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں سکڑاو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ تاہم اس کمی کو صرف لاہور کے سرمایہ کاروں سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ پاکستان سٹاک ایکسچینج کے اعدادوشمار قومی مارکیٹ کی مجموعی سرگرمیوں کی عکاسی کرتے ہیںمارکیٹ کی مجموعی قدر میں کمی کے باعث سرمایہ کاروں کے زیرملکیت حصص کی مالیت بھی متاثر ہوئی ہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق اکتوبر کے ابتدائی ہفتوں میں مارکیٹ کی مجموعی مالیت میں 300 سے 400 ارب روپے تک کمی واقع ہوئی، تاہم اس تخمینے کی تصدیق کیلئے متعلقہ کاروباری دنوں کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کا موازنہ ضروری ہے۔ اسی طرح لاہور کے سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کے نقصان کی مقدار متعین کرنے کیلئے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ ان کے پاس کن کمپنیوں کے کتنے حصص موجود تھے اور متعلقہ عرصے میں ان کی قیمتوں میں کتنی تبدیلی آئی لاہور کے سرمایہ کاروں کو بالخصوص اس خدشے کا سامنا ہے کہ اگر سیاسی بے یقینی برقرار رہی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور شرح سود میں نرمی کے امکانات محدود ہوئے تو مارکیٹ پر دباو¿ مزید بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان معاہدے پر پیشرفت، بیرونی مالی معاونت، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور فہرست شدہ کمپنیوں کے مالی نتائج مارکیٹ کو سہارا دے سکتے ہیں۔ تاہم ان عوامل کی بنیاد پر فوری بحالی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔