لاہور(خبر نگار)تجاوزات کے خلاف جاری کارروائیوں کے شور و غوغا میں شالامار زون کے ممنوعہ علاقوں سے مویشیوں کے انخلا کا معاملہ دبا کر خاموشی سے لاکھوں روپے کی رشوت خوری کا جال بچھا لیا گیا ہے۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شالامار زون کی حدود میں واقع چائنہ سکیم، سلطان محمد روڈ، محمود بوٹی، کرول گھاٹی اور بند روڈ کے علاقوں میں مویشیوں کی کھلے عام موجودگی کا انکشاف ہوا ہے جہاں مویشی مالکان سے بڑی بڑی ڈیلز کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے انکشاف سامنے آیا ہے کہ شالامار زون کے ایک سابق ملازم سلیم صدیقی، جو تجاوزات اور مویشیوں کے معاملات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، ان کی انچارج آپریشنز شہزاد رسول کے ساتھ مسلسل خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ انچارج آپریشنز شہزاد رسول کے ساتھ شالامار زون کی حدود کیلئے سلیم صدیقی کی یہ ڈیل مبینہ طور پر ایک ملین روپے سے شروع ہوئی تھی، جو بحث و تکرار کے بعد بالآخر مبینہ طور پر 5 لاکھ روپے ماہانہ پر طے پا گئی۔ سابق ملازم سلیم صدیقی نے انچارج آپریشنز شہزاد رسول کو ممنوعہ علاقوں سے مویشی نہ نکالنے کے عوض 5 لاکھ روپے ماہانہ پر راضی کر لیا ہے۔ یہ ڈیل صرف شالامار زون کی حدود تک محدود ہے، جبکہ دیگر تحصیلوں میں الگ افراد کے ساتھ الگ ڈیلز کا انکشاف بھی سامنے آیا ہے۔ شہر میں ایک طرف انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا تاثر دیا جا رہا ہے، تو دوسری جانب شالامار زون کے گنجان آباد علاقوں کو غیر قانونی مویشیوں کے اڈے میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کو تعفن، بیماریوں اور سڑکوں پر پھیلی گندگی کا سامنا ہے جبکہ انتظامی افسران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ سابق ملازم سلیم صدیقی اور انچارج آپریشنز شہزاد رسول کے درمیان طے پانے والے اس مبینہ معاہدے کے بعد ان علاقوں میں مویشی پال مافیا کے خلاف کارروائیاں مکمل طور پر روک دی گئی ہیں۔ اعلیٰ انتظامی اداروں کی عدم توجہی کے باعث اس غیر قانونی گٹھ جوڑ کے ذریعے ہر ماہ لاکھوں روپے سمیٹنے کا سلسلہ بلا تعطل جاری ہے۔ اس تمام تر ڈیلنگ کے پسِ پردہ حقائق کے مطابق اس پورے کھیل کو سابق زیڈ او آر سدرہ ظفر کے چہیتے شیراز نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے جو ان کے ساتھ ان کے دورِ کونسل آفیسر عزیز بھٹی ٹاو¿ن سے بطور کلرک منسلک رہا۔ بعد ازاں جب خاتون افسر 2018-19 میں شالامار زون میں بطور زیڈ او آر تعینات ہوئیں تو انہوں نے شیراز کو اپنے ماتحت انفورسمنٹ انسپکٹر لگوایا۔ حال ہی میں شیراز شالامار زون سے سرنڈر ہو چکا تھا، جسے ایم او آر جواد گوندل کے ذریعے دوبارہ واپس لایا گیا ہے۔ اور مویشیوں کے حوالے سے مزکورہ ڈیل مبینہ طور پر بزریعہ شیراز ہی ہوئی ہے۔
شالامار زون، مویشوں کا انخلاءبند، رشوت کا بازار گرم



















