اسلام آباد: (بیورورپورٹ) چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے پالیسی کے برعکس اب کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا،جلد سماعت کی درخواست کےساتھ ٹھوس جواز ہونا چاہیے۔
وکلا کےساتھ نشست میں چیف جسٹس نے کہاجلد سماعت کی درخواستوں پر کارروائی کی منظوری رجسٹرار دیتا ،کسی بنچ میں مقررہ ترتیب سے ہٹ کر کیس لگنے پر جج رجسٹرار کو طلب کرلیتا ہے،ٹیکس کے 400 مقدمات کا ایک ماہ میں فیصلہ کیا گیا، سال 2024 کے صرف 23 کیسز باقی ہیں، جیل پٹیشنز مقرر کرنے کا طریقہ کار انصاف، یکسانیت اور شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔
پالیسی کے برعکس اب کوئی کیس مقرر نہیں ہوسکتا،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی



















