لاہور (اپنے رپورٹر سے) گورنر سندھ نہال ہاشمی نے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں سے پنجاب اسمبلی چیمبر میں ملاقات کی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، اہم قومی امور، جمہوری نظام کے تسلسل اور پارلیمانی اداروں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ عوامی مسائل کا پائیدار حل بااختیار پارلیمان اور مضبوط جمہوری اداروں سے وابستہ ہے۔ قومی معاملات میں پارلیمانی اداروں کا مثر کردار، آئین کی بالادستی اور پارلیمان کی خودمختاری ناگزیر ہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ عوام کو اسمبلی کی کارروائی اور قانون سازی کے عمل سے آگاہ رکھنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کے درمیان روابط اور پارلیمانی تجربات کا تبادلہ جمہوری نظام کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔گورنر سندھ نہال ہاشمی نے پنجاب اسمبلی کے قانون سازی کے عمل اور پارلیمانی طریقہ کار کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الصوبائی ہم آہنگی اور جمہوری اداروں کے درمیان تعاون سیاسی استحکام کیلئے اہم ہے۔ انہوں نے آئین و قانون کی پاسداری اور عوامی فلاح کو ترجیح دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ملاقات میں معاون خصوصی برائے وزیر اعلیٰ پنجاب برائے زکو و عشر راشد نصر اللہ، رکن پنجاب اسمبلی رانا ارشد، سیکرٹری جنرل چودھری عامر حبیب، سپیکر کے مشیر اسامہ خاور اور پرنسپل سیکرٹری عماد حسین بھلی بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کیلئے میرٹ، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور نوجوانوں کی قومی معاملات میں موثر شمولیت ضروری ہے،وسائل کا چند ہاتھوں میں ارتکاز اور مڈل کلاس کیلئے محدود ہوتے مواقع معاشرتی ترقی میں رکاوٹ ہیں جبکہ میرٹ کے نام پر صوابدیدی اختیارات کا استعمال تباہ کن ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار یونیورسٹی آف لاہور میں جنریشنز اِن ٹرانزیشن: چیلنجز، امنگیں اور پاکستان کا مستقبل کے عنوان سے منعقدہ قومی مکالمہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ نوجوانوں کی آرا، شناخت اور عزتِ نفس کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ سیاسی قیادت کو محض تقاریر کے بجائے اپنے عملی کردار سے مثال قائم کرنی چاہیے۔ نوجوانوں کو قومی اور سماجی مسائل پر مکالمے میں شریک کرنا مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے غربت اور معاشی ناہمواری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وسائل اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم، میرٹ اور ترقی کے مساوی مواقع کیلئے سنجیدہ قومی مکالمہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے غربت سے متعلق عالمی بینک کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ڈیجیٹل تعلیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیموں کے ساتھ طلبہ کی عملی صلاحیتوں اور روزگار کے مواقع میں اضافے کو یقینی بنایا جائے۔ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کے ساتھ ڈیجیٹل تعلیم کے فروغ اور تعلیمی پالیسیوں میں تحقیق پر مبنی اقدامات کی ضرورت ہے۔وفاقی ہم آہنگی پر بات کرتے ہوئے سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ قومی یکجہتی کیلئے تمام وفاقی اکائیوں کے درمیان اعتماد، احترام اور شراکت داری ضروری ہے۔ وسائل کی تقسیم میں آبادی کے ساتھ تعلیم، صحت اور ترقیاتی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنے پر غور کیا جانا چاہیے۔ صوبائی فنانس کمیشن کے ذریعے سماجی اور ترقیاتی اشاریوں کو شامل کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی منصوبوں کی کامیابی کا تعین ان کے عملی نتائج اور عوام کی زندگیوں میں بہتری سے ہونا چاہیے۔ جامعات اور تحقیقی اداروں کو پالیسی سازی میں معاونت فراہم کرنی چاہیے تاکہ قومی وسائل کے موثر استعمال اور عوامی فلاح کو یقینی بنایا جا سکے۔
مسائل کا پائیدار حل بااختیار پارلیمان، مضبوط جمہوری اداروں سے وابستہ ہے:سپیکر پنجاب اسمبلی



















