اسلام آباد (مشرق نیوز) صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا جبکہ ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ یا ایمرجنسی کے معاملے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ایوان صدر میں ملاقات ہوئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور 13 اکتوبرکو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف کی ایوانِ صدر میں ملاقات، ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال۔
ملاقات میں وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر احد چیمہ بھی موجود تھے جبکہ سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔
ذرائع نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ایمرجنسی کے معاملے پر اتفاق ہوگیا ہے اورفیصلہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات میں گورنر راج کے معاملے پر مشاورت متوقع اور اس کے بعد گورنر راج کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ گورنر راج کے نفاذ کی سمری صدر مملکت کو بھجوائی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، جس میں مختلف آئینی آپشنز پر غور کیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کی صورتحال کے حوالے سے مختلف آئینی آپشنز پر مشاورت جاری ہے اور حتمی فیصلہ کابینہ کے اجلاس میں کیا جائیگا۔
قبل ازیں ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور فیصلے کے حوالے سے صوبائی حکومت کو پیغام بھی پہنچا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اس کے علاوہ صوبے میں بعض اہم اختیارات وفاق کے استعمال میں دینے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے، ان میں 8 ضم شدہ قبائلی اضلاع میں خیبر، کرم، اورکزئی، باجوڑ، مہمند، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور زیریں وزیرستان شامل ہیں، 4 اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت بھی اس مجوزہ منصوبے کا حصہ ہوں گے۔
صدرمملکت اور وزیراعظم کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ پر اتفاق


















