اسلام آباد:(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا میں2برس کے دوران دہشتگردی میں 195 فیصد اضافہ،پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی 2اہم خصوصی سکیورٹی رپورٹس پیش کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق دہشتگردی میں مسلسل اضافہ صوبے کی سکیورٹی صورتحال کیلئے سنگین و تشویشناک چیلنج بن گیا،افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر ،مقامی سہولت کاروں کےساتھ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسی ،دہشتگردوں کےلئے نرم گوشے نے خطرات میں اضافہ کیا،صوبائی سطح پر موثر انسداد دہشتگردی اقدامات میں کمی سے دہشتگرد عناصر کو جگہ بنانے کا موقع ملا، دہشتگرد نیٹ ورکس، سہولت کاری اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باہمی روابط بھی سکیورٹی کیلئے سنگین چیلنج ہیں۔
وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق پولیس ،قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا ناگزیر ،پورے خیبر پختونخوا کیلئے سیف سٹی منصوبہ تاحال صرف پشاور تک محدود ،خیبر پختونخوا پولیس میں 9 ہزار سے زائد آسامیاں خالی ہیں، پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید ہتھیاروں اور ضروری آپریشنل سازوسامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
خیبرپختونخوا ،2برس کے دوران دہشتگردی میں 195 فیصد اضافہ



















