لاہور (نعیم جاوید) آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کی پیش گوئی نے عام آدمی کے گھریلو بجٹ، قوتِ خرید اور معیارِ زندگی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ آٹا، چینی، گھی، دالیں، سبزیاں، بجلی و گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، مکان کا کرایہ اور علاج معالجے کے اخراجات پورے کرنا محدود آمدن والے خاندانوں کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مہنگائی میں مزید اضافے کی صورت میں شہریوں کو اخراجات میں مزید کٹوتیاں کرنا پڑ سکتی ہیںاندرونِ لاہور کے رہائشی محمد اسلم کے مطابق محدود آمدن میں گھر کے تمام اخراجات پورے کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے راشن، بجلی کے بل اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد بچت کیلئے بہت کم رقم باقی رہتی ہے، جبکہ مہنگائی مزید بڑھی تو گھریلو بجٹ چلانا مشکل ہو جائیگا۔ اچھرہ کے رہائشی عمران احمد بیان میں کہا گیا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط طبقہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ آمدن میں اسی تناسب سے اضافہ نہ ہو تو خاندانوں کو لباس، تفریح اور دیگر ضروری اخراجات محدود کرنا پڑتے ہیں ٹاون شپ کی رہائشی سائرہ بی بی کیلئے تیار کردہ فرضی بیان کے مطابق بچوں کی تعلیم، گھر کے راشن اور یوٹیلیٹی بلوں کے اخراجات میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے حکومت کو کم آمدن والے خاندانوں کیلئے ریلیف فراہم کرنا چاہیے تاکہ بچوں کی تعلیم اور بنیادی ضروریات متاثر نہ ہوںمزنگ کے رہائشی محمد ریاض کے کہا گیا ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ دباو ان خاندانوں پر پڑتا ہے جن کی آمدن مقرر ہے۔ اگر خوراک، ٹرانسپورٹ اور بجلی کے اخراجات مزید بڑھتے ہیں تو انہیں دوسری ضروریات پر خرچ کم کرنا پڑ سکتا ہے دوسری جانب لاہور ہول سیل ڈرگ اینڈ کیمسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین فاران سعید بٹ نے کے تاجرمیں کاروباری اخراجات اور صارفین کی قوتِ خرید کو اہم مسائل قرار دیا گیا ہے۔ اس فرضی بیان کے مطابق دکانداروں کیلئے بڑھتی ہوئی لاگت اور گاہکوں کی محدود خریداری کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ شاہ عالم مارکیٹ کے تاجر رہنما عادل منےرنے کہا کہ جب صارفین کی آمدن کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پر خرچ ہونے لگتا ہے تو وہ غیر ضروری اشیا کی خریداری موخر کر دیتے ہیں۔ اس سے بعض کاروباروں کی فروخت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے اکبری منڈی کے تاجر محمد شفیق مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں اور رسد میں تبدیلی کا اثر تھوک اور پرچون کے کاروبار پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے نمونہ موقف میں قیمتوں کے استحکام، رسد کی بہتری اور کاروباری اخراجات میں کمی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے آئی ایم ایف کی مہنگائی سے متعلق پیش گوئی کے تناظر میں عوامی خدشات کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ اگر آمدن میں اضافے کے بغیر اخراجات بڑھتے رہے تو گھریلو بجٹ میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور دستیابی کی نگرانی بہتر بنائے، کم آمدن والے طبقے کیلئے موثر ریلیف فراہم کرے اور روزگار کے مواقع بڑھانے پر توجہ دے۔
مہنگائی بڑھی تو گھر کیسے چلائیں گے؟ شہری ،تاجروں کو بھی کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ



















