جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاﺅن30 کروڑ 50 لاکھ کی زرعی ادویات ضبط،

لاہور (انٹروےو:نعیم جاوید/عکاسی: شاہنواز) ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر عامر رسول نے کہا ہے کہ جعلی زرعی ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف صوبہ بھر میں بھرپور کارروائیاں جاری ہیں۔ رواں سال زرعی ادویات کے 5700 نمونے حاصل کئے گئے جن میں سے 89 نمونے غیر معیاری قرار پائے، جبکہ جعلی زرعی ادویات کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف 304 مقدمات درج کیے گئے اور 30 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی جعلی زرعی ادویات ضبط کی گئیں۔ لاہور، ملتان اور گردونواح میں جعلی زرعی ادویات تیار کرنے والی تقریباً 23 فیکٹریاں بھی سیل کی گئیں۔ محکمہ زراعت فصلوں کے تحفظ، معیاری زرعی ادویات کی فراہمی اور کاشتکاروں کو جدید طریقہ ہائے کاشت سے آگاہ کرنے کیلئے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ مشرق سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹر عامر رسول نے کہا کہ جعلی زرعی ادویات کا کاروبار نہ صرف کاشتکاروں کو مالی نقصان پہنچاتا ہے بلکہ فصلوں کی پیداوار اور زرعی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ محکمہ زراعت شعبہ پیسٹ وارننگ کی ٹیمیں زرعی ادویات کے معیار کی جانچ، غیر قانونی کاروبار کی نشاندہی اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جعلی اور ملاوٹ شدہ زرعی ادویات تیار اور فروخت کرنے والوں کے خلاف آپریشن جاری رہے گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی گندم کی کاشت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عامر رسول نے کہا کہ اس وقت گندم کی بوائی جاری ہے۔ گندم کی فصل پر عمومی طور پر کیڑوں کا حملہ نسبتاً کم ہوتا ہے، تاہم بہتر پیداوار کے حصول کیلئے جڑی بوٹیوں کا بر وقت تدارک اور محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسان گندم کی کاشت کیلئے اعلیٰ معیارکے تصدیق شدہ بیج کو زہر لگا کر بروقت بوائی بذریعہ ڈرل کو یقینی بنائیں انہوں نے کہا کہ لائنوں میں کاشت کرنے سے جڑی بوٹیوں کی تلفی آسان ہو جاتی ہے، فصل کی دیکھ بھال بہتر انداز میں کی جا سکتی ہے اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے میں مدد ملتی ہے انہوں نے کہا کہ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ کاشتکاروں کو بہتر بیج، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور فصلوں کی مناسب دیکھ بھال کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جائے کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ گندم کی بوائی کیلئے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں اور فصل کی بہتر نشوونما کیلئے مناسب طریقے اختیار کریںگندم کی قیمت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے کی ترقی کیلئے حکومتی اقدامات اہمیت رکھتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق گندم کی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کو بہتر پیداواری نتائج کیلئے جدید طریقوں کو اپنانا چاہیے دھان کی فصل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عامر رسول نے کہا کہ متعدد علاقوں میں فصل کی کٹائی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ بعض علاقوں میں فصل ابھی کھڑی ہے۔ ان علاقوں میں تیلے کے حملے کا خدشہ موجود ہے، جس کے پیش نظر محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ فصل کی باقاعدگی سے نگرانی کریں اور ضرورت پڑنے پر محکمہ زراعت کی سفارشات کے مطابق حفاظتی اقدامات کریںانہوں نے کہا کہ دھان سمیت دیگر فصلوں پر زرعی ادویات استعمال کرتے وقت وقفہ قبل از برداشت، یعنی پی ایچ آئی، کو مدنظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ وقفہ قبل از برداشت سے مراد زرعی دوا کے استعمال اور فصل کی برداشت کے درمیان مقررہ وقت ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ زرعی ادویات کی تجویز کردہ مقدار استعمال کریں اور مقررہ وقفہ مکمل ہونے سے پہلے فصل کی برداشت نہ کریں تاکہ زرعی پیداوار میں ادویات کی باقیات مقررہ حدود سے تجاوز نہ کریںڈاکٹر عامر رسول نے مزید کہا کہ کاشتکار کسی بھی فصل پر کیڑوں اور بیماریوں کے حملے کی صورت میں خود سے غیر ضروری طور پر زرعی ادویات استعمال کرنے کے بجائے محکمہ زراعت کے ماہرین یا موبائل پیسٹ سرویلینس سکواڈ سے رہنمائی حاصل کریں۔ مناسب وقت پر درست دوا کا استعمال نہ صرف فصل کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتا ہے بلکہ پیداواری اخراجات میں کمی اور زرعی پیداوار کے معیار کو برقرار رکھنے کیلئے بھی ضروری ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب جعلی زرعی ادویات کے خلاف کارروائیوں اور کاشتکاروں کی آگاہی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ کسانوں کو معیاری بیج، بروقت کاشت، لائنوں میں بوائی اور فصلوں پر کیڑوں کے حملے سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو، زرعی اخراجات کو مو¿ثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے اور ملکی زرعی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔