پشاور: (بیورورپورٹ)کے پی میںگورنر راج ،ایمرجنسی کے نفاذ کےخلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس،پشاور ہائیکورٹ نے جواب طلب کر لیا۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بنچ نے درخواستوں پر سماعت کی،بیرسٹر گوہر نے عدالت سے ایمرجنسی ،گورنر راج معطل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا ایک ہی دن میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ ،ایڈوائزری کونسل تشکیل پائی، 38ڈپٹی کمشنر تبدیل ، 25اراکین قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی اٹھائے گئے،دفاتر گرائے گئے، ترقیاتی کاموں کی افتتاحی تختیاں توڑی گئیں، دیگر جماعتوں کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیاں چھوڑ کر پی ٹی آئی کی کیوں توڑی جا رہی ہیں، مینڈیٹ لیا گیا، گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، چاہتے ہیں ایمرجنسی ،گورنر راج معطل کیا جائے، دہشتگردی کےخلاف ریاست کےساتھ ہیں ،حکومتی اقدام سے نفرت بڑھ رہی ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ نہیں کی جا سکتی،جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فہیم ولی پر مشتمل بنچ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کرکے سماعت 10نومبر تک ملتوی کر دی۔
قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا عدالت میں ثابت کریں گے گورنر راج و ایمرجنسی غیر آئینی ہیں، وزیر اعلیٰ کے پی کی گرفتاری کےخلاف ہر جگہ آواز اٹھائیں گے، لیڈرشپ کو رہا کیا جائے، مذاکرات ہونے ہوتے تو اب تک ہو چکے ہوتے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا جمہوریت پر حملہ ،اراکین کو اٹھایا جا رہا ہے، صوبائی حکومت، وزیر اعلیٰ، اسمبلی، عدالتیں، پولیس سب تھے پھر بھی گورنر راج لگایا گیا، محمود اچکزئی نے کہا وزیر اعظم سے دشمنی نہیں لیکن 4کروڑ عوام کا مذاق بنایا گیا، آواز نہ اٹھائی تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔
گورنر راج ، ایمرجنسی کیخلاف درخواستوں پر اٹارنی جنرل کو نوٹس ، جواب طلب


















